تحریر: مریم ادریس
آج میں کوئی نئی بات نہیں کرنے جا رہی بلکہ جس مسئلے پر بات کرنے جا رہی ہوں وہ آج سے 74 سالہ پرانا مسئلہ ہے اور وہ مسئلہ بھارت کا کشمیر پر غاصبانہ قبضہ ہے مگر بے ضمیروں اور قاتلوں کو آج تک شرم نہیں آئی، جی ہاں !وہ بے ضمیر اور قاتل کوئی اور نہیں بلکہ خود کو جمہوریت کا چیمپئن کہلانے والا ملک بھارت ہے، بھارت میں بہت ساری حکومتیں بدلتی رہی ہیں لیکن کشمیریوں کو انکا حق خودارادیت دینے کے لیے کسی بھی حکومت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی بلکہ الٹا مزید کشمیریوں پر ظلم ڈھائے ان کی زندگی میں مشکلات بڑھائیں ان سے شناخت چھیننے کی کوشش کی اور ایسے قوانین بنائے کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کشمیر کمزور پڑے، بھارت کا دوغلا پن پوری دنیا کے سامنے ہے ایک طرف بھارت اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر انسانی حقوق اور جمہوریت کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری طرف اس نے کشمیریوں کے بنیادی حقوق غصب کر رکھے ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں، 27 اکتوبر وہ دن ہے جس دن آج سے 74 سال قبل بھارت نے پہلی بار اپنی فوجیں کشمیر میں اتار کر غاصبانہ قبضہ کر لیا اور تب سے کشمیری پوری دنیا میں ہر سال اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں جسکا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے جسے کشمیری کسی صورت میں تسلیم نہیں کرتے اور اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور ساتھ اس عزم کو بھی دہراتے ہیں کہ وہ اپنی آزادی تک یہ تحریک جاری رکھیں گے اگر بات کریں بھارت کے مظالم کی تو جب سے بھارت کشمیر پر قابض ہے تب سے مظالم ڈھا رہا ہے جن کو سن کر دیکھ کر دل دہل جاتا ہے اور کشمیریوں کی مظلومیت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ان مظالم میں پیلٹ گنز سے ہزاروں افراد کی بینائی سے محرومی ہو، خواتین کی عصمت دری ہو، بوڑھے ماں باپ کے سامنے نوجوانوں کو شہید کرنا ہو، نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر غائب کر کے پہلے تشدد کرنا اور پھر شہید کر دینا ہے یہ تو وہ مظالم ہیں جو ہم تک پہنچتے ہیں، میڈیا پر پابندی اور انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے بہت سارے مظالم اور حقائق تو سامنے ہی نہیں آتے جن سے بھارت کا مکروہ چہرہ کھل کر سامنے آ سکتا ہے ،بھارت نے ہمیشہ اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کر کے اپنی چالاکیاں اور مظالم چھپانے کی کوشش کی ہے اور دنیا کے سامنے بڑا پارسا بننے کی کوشش کی،کشمیریوں کی جرات واستقامت کو سلام ہے وہ تمام تر مظالم کے باوجود ڈٹے ہوئے ہیں اور بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر رہے ہیں اور اپنے حق خودارادیت کے لیے آزادی کی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں، شہدا کشمیر کی عظمت کو سلام ہے جنہوں نے جنت نظیر وادی کی آزادی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ دیا انشااللہ ایک دن یہ قربانیاں رنگ لائیں گی اور کشمیر آزاد ہو گا، بھارت کے مظالم روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں کیا دنیا کو یہ سب نظر نہیں آ رہا کہ آج بھی دنیا میں ایک ایسا خطہ موجود ہے جس کے باسی زندگی کے بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور ان پر بدترین ظلم کیا جا رہا ہے، ایک سماجی اور انسانی حقوق کی کارکن کی حیثیت سے میں اپیل کرتی ہوں اقوام متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں اپنی آنکھیں کھولیں اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لیں اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے، ہم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس عزم کو دہراتے ہیں کہ ہم آپ کی آزادی تک خاموش نہیں بیٹھیں گے اور بھارت کے مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔
” 27 اکتوبر یوم سیاہ”
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
