ہومکالم وبلاگزکالمزانتخابی اصلاحات، اقتدار اور اپوزیشن کا گٹھ جوڑ — عوام کی رائے آخر کب معتبر ہوگی؟

انتخابی اصلاحات، اقتدار اور اپوزیشن کا گٹھ جوڑ — عوام کی رائے آخر کب معتبر ہوگی؟

عوامی نمائندگی کا نظام عوام کے لیے ہے یا اقتدار کے ایوانوں کے لیے؟

تحریر: شاہد زمان

انتخابات سے پہلے ہر سیاسی جماعت عوام کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ کوئی مہنگائی ختم کرنے کا وعدہ کرتا ہے، کوئی روزگار دینے کا، کوئی تعلیم اور صحت کی سہولتیں بہتر بنانے کا اور کوئی نظام بدلنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ انتخابی جلسوں میں عوام کو ملک کی اصل طاقت قرار دیا جاتا ہے، لیکن انتخابات کے بعد اکثر یہی عوام اپنے گلی محلے کے مسائل، ٹوٹی سڑکوں، نکاسیٔ آب، پینے کے صاف پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ اور بنیادی سہولتوں کے لیے دربدر دکھائی دیتے ہیں۔

ایسے میں ایک بنیادی سوال ذہن میں آتا ہے: کیا ہمارا انتخابی نظام واقعی عوام کی رائے اور ضروریات کی ترجمانی کرتا ہے، یا یہ زیادہ تر سیاسی جماعتوں اور اقتدار کے خواہش مند حلقوں کے مفادات کے گرد گھومتا ہے؟

پاکستان میں انتخابات کے بعد سیاسی جماعتوں کے درمیان حکومت سازی، اقتدار کی تقسیم، اپوزیشن کے کردار اور سیاسی مفاہمت کے معاملات ہمیشہ زیرِ بحث رہتے ہیں۔ بعض اوقات عوام کو یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود سیاسی قیادت اپنے مشترکہ مفادات پر اتفاق کر لیتی ہے، جبکہ عوام کے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہ تاثر اپنی جگہ ایک عوامی تشویش ہے؛ اسے کسی ثابت شدہ خفیہ معاہدے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ تاہم یہ سوال ضرور اٹھایا جا سکتا ہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابی اصلاحات، شفافیت اور عوامی جواب دہی کے معاملے پر اتنی سنجیدہ کیوں دکھائی نہیں دیتیں جتنی اقتدار کے حصول کے وقت نظر آتی ہیں؟

آخر کب تک انتخابی اصلاحات کا معاملہ صرف سیاسی جماعتوں کی باہمی مشاورت اور مفادات تک محدود رہے گا؟

بلدیاتی انتخابات: عوام کے مسائل کا پہلا دروازہ

ہماری سیاسی گفتگو میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے، لیکن بلدیاتی انتخابات اکثر سیاسی ترجیحات میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ حالانکہ عام شہری کی روزمرہ زندگی کے بیشتر مسائل کا تعلق مقامی حکومت سے ہوتا ہے۔

گلی کی صفائی، پانی کی فراہمی، نکاسیٔ آب، محلے کی سڑک، اسٹریٹ لائٹس، مقامی بازاروں کے مسائل اور بنیادی شہری سہولتیں ایسے معاملات ہیں جن کے لیے ہر شہری کو اسلام آباد یا صوبائی دارالحکومت کے ایوانوں تک پہنچنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ قانون کے ذریعے مقامی حکومت کا نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریاں اور اختیارات منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کریں۔ اسی آرٹیکل کے تحت مقامی حکومتوں کے انتخابات الیکشن کمیشن منعقد کرتا ہے۔

لیکن عملی سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے بلدیاتی اداروں کو واقعی اختیارات، وسائل اور انتظامی آزادی دی جاتی ہے؟ کیا ان کے انتخابات باقاعدگی سے ہوتے ہیں؟ کیا منتخب نمائندے اپنے علاقے کے مسائل حل کرنے کے لیے مالی اور انتظامی اختیار رکھتے ہیں؟

اگر مقامی حکومتیں مضبوط ہوں تو عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے ایک مستقل اور قابلِ عمل انتخابی کیلنڈر بنایا جائے، منتخب اداروں کو حقیقی اختیارات دیے جائیں اور ان کے مالی وسائل کا واضح نظام قائم کیا جائے۔

بلدیاتی نظام کو سیاسی جماعتوں کی وقتی ضرورت یا پسند و ناپسند کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔ یہ عوام کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔

خواتین کی نمائندگی: مخصوص نشستیں یا براہِ راست انتخاب؟

خواتین کی سیاسی نمائندگی ایک اہم قومی اور جمہوری مسئلہ ہے۔ اس پر بحث کرتے ہوئے ہمیں سب سے پہلے یہ واضح کرنا چاہیے کہ خواتین کی صلاحیت یا سیاسی کردار پر سوال اٹھانا مقصود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان کی نمائندگی کا طریقہ کیا ہونا چاہیے اور کیا موجودہ نظام انہیں حقیقی عوامی رابطے اور براہِ راست انتخابی عمل میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کر رہا ہے؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بے نظیر بھٹو ایک نمایاں مثال ہیں، جنہوں نے براہِ راست انتخابی میدان میں حصہ لے کر قومی قیادت کا کردار ادا کیا۔ مریم نواز شریف بھی عمومی انتخابی حلقے سے منتخب ہو کر سیاسی ذمہ داری تک پہنچی ہیں۔ ایسی مثالیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ خواتین براہِ راست انتخابی مقابلے میں حصہ لے سکتی ہیں اور عوامی مینڈیٹ حاصل کر سکتی ہیں۔

1973ء کے اصل آئین میں قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے دس مخصوص نشستیں رکھی گئی تھیں، جن کی مدت آئین کے نفاذ سے دس سال یا تیسرا عام انتخاب—جو بھی بعد میں ہوتا—تک مقرر تھی۔ بعد میں مختلف آئینی ترامیم کے ذریعے اس نظام میں تبدیلیاں آئیں۔ 2002ء میں قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کی تعداد بڑھا کر ساٹھ کر دی گئی۔ موجودہ آئینی نظام میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے مخصوص نشستوں کا انتظام موجود ہے۔

میری رائے میں اب وقت آ گیا ہے کہ اس نظام کا سنجیدہ اور غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔ خواتین کو سیاسی جماعتوں کی نامزدگیوں اور مخصوص نشستوں تک محدود رکھنے کے بجائے عمومی انتخابی حلقوں سے براہِ راست انتخاب لڑنے کے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں۔ سیاسی جماعتیں خواتین کو انتخابی ٹکٹ دیں، ان کے لیے انتخابی مہم کے وسائل اور مساوی مواقع پیدا کریں اور معاشرتی و معاشی رکاوٹیں دور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

مخصوص نشستوں کے خاتمے یا مرحلہ وار تبدیلی کی تجویز پر بھی کھلے عام بحث ہونی چاہیے، لیکن یہ عمل اس طرح ترتیب دیا جائے کہ خواتین کی سیاسی نمائندگی کمزور نہ ہو۔ اس مقصد کے لیے آئین کے متعلقہ آرٹیکلز، بالخصوص آرٹیکل 51 اور 106، میں ضروری ترامیم اور مناسب عبوری انتظامات درکار ہوں گے۔

مقصد خواتین کو سیاست سے باہر کرنا نہیں، بلکہ انہیں براہِ راست عوامی اعتماد حاصل کرنے کے زیادہ مواقع دینا ہونا چاہیے۔

ایک امیدوار، ایک نشست — عوامی مینڈیٹ کا احترام

ہمارے انتخابی نظام کا ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ ایک امیدوار بیک وقت قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی یا مختلف انتخابی حلقوں سے انتخاب کیوں لڑ سکتا ہے؟

موجودہ آئینی و قانونی نظام میں ایک امیدوار کو ایک سے زیادہ نشستوں پر انتخاب لڑنے کی اجازت حاصل ہے، جس کے لیے آئین کا آرٹیکل 223 متعلقہ گنجائش فراہم کرتا ہے۔ اگر کوئی امیدوار ایک سے زیادہ نشستوں پر کامیاب ہو جائے تو اسے بعد میں ایک نشست برقرار رکھ کر باقی نشستیں خالی کرنا پڑتی ہیں۔

اس صورت میں ایک حلقے کے ووٹرز دوبارہ انتخابی عمل اور ممکنہ ضمنی انتخاب کے مرحلے سے گزرتے ہیں۔ انتخابی اخراجات، انتظامی وسائل اور عوام کا وقت دوبارہ صرف ہوتا ہے۔

میری تجویز ہے کہ ایک امیدوار، ایک وقت میں ایک ہی انتخابی نشست کا اصول اختیار کیا جائے۔ امیدوار قومی، صوبائی یا بلدیاتی سطح میں سے جس ایک نشست کے لیے انتخاب لڑنا چاہے، اسی پر اپنی توجہ اور انتخابی مہم مرکوز کرے۔

اس سے امیدوار کی جواب دہی واضح ہوگی، انتخابی عمل کے غیر ضروری اخراجات کم ہوں گے اور ووٹرز کو بھی اپنے منتخب نمائندے کے بارے میں زیادہ واضح فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا۔ اس تجویز پر عمل کے لیے آرٹیکل 223 اور متعلقہ انتخابی قوانین میں مناسب ترمیم ضروری ہوگی۔

انتخابی اصلاحات کا فیصلہ کون کرے؟

اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ انتخابی اصلاحات کی نگرانی اور تیاری کون کرے؟ کیا یہ اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہونا چاہیے؟ کیا سیاسی جماعتیں خود ہی اپنے انتخابی نظام کی اصلاح کا فیصلہ کریں؟ یا الیکشن کمیشن اس عمل میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے؟

پارلیمان قانون سازی اور آئینی ترامیم کا بنیادی آئینی فورم ہے۔ انتخابی قوانین میں تبدیلی اور آئینی ترامیم کا اختیار آئین میں طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق پارلیمان ہی استعمال کرے گی۔ الیکشن کمیشن کا آئینی کردار انتخابات کے انعقاد، نگرانی اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے سے متعلق ہے۔ اس لیے الیکشن کمیشن کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں، لیکن اسے پارلیمان کا متبادل سمجھنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔

میری تجویز ہے کہ ایک مستقل، بااختیار اور غیر جانب دار قومی کمیشن برائے انتخابی اصلاحات و عوامی نمائندگی قائم کیا جائے۔ اس کمیشن میں الیکشن کمیشن کو اہم ادارہ جاتی اور فنی کردار دیا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ مناسب قانونی انتظام کے تحت اسے کمیشن کا سیکریٹریٹ یا تکنیکی معاون بھی بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم کمیشن کی سفارشات، مشاورت اور نگرانی کا نظام ایسا ہو کہ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومتی ادارے کا اثر غالب نہ ہو۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کمیشن میں صرف سیاست دان، سرکاری افسران یا قانونی ماہرین ہی شامل نہ ہوں، بلکہ معاشرے کے ان طبقات کے باضابطہ منتخب نمائندوں کو بھی جگہ دی جائے جو ملکی معیشت اور روزمرہ زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مثلاً:

  • چیمبرز آف کامرس، صنعت کاروں اور سمال ٹریڈرز کی منتخب نمائندگی؛
  • تاجروں، بازاروں اور کاروباری انجمنوں کے نمائندے؛
  • بار کونسلز اور وکلا کی منتخب قیادت؛
  • ڈاکٹرز اور طبی پیشہ ورانہ تنظیموں کے نمائندے؛
  • کسانوں، زمینداروں اور زرعی تنظیموں کی نمائندگی؛
  • مال بردار اور عوامی ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے منتخب نمائندے؛
  • صحافتی تنظیموں، پریس کلبوں اور میڈیا سے متعلق اداروں کے منتخب نمائندے؛
  • تعلیمی اداروں، جامعات اور تحقیقی تنظیموں کی نمائندگی؛
  • خواتین، نوجوانوں، مزدوروں، خصوصی افراد اور سول سوسائٹی کے نمائندے؛
  • آئینی، انتخابی اور انتظامی امور کے غیر جانب دار ماہرین۔

یہ نمائندے حکومت یا سیاسی جماعتوں کی صوابدید پر نامزد نہ ہوں، بلکہ متعلقہ رجسٹرڈ اور نمائندہ تنظیموں کے اپنے شفاف انتخابی طریقۂ کار کے ذریعے منتخب ہو کر آئیں۔ ان کی مدت، اہلیت، مفادات کے ٹکراؤ سے بچاؤ، صوبائی نمائندگی اور احتساب کے اصول بھی واضح ہوں۔

اس طرح انتخابی اصلاحات محض سیاسی قیادت کی باہمی گفت و شنید نہیں رہیں گی، بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات کی اجتماعی مشاورت سے آگے بڑھیں گی۔

پارلیمان کا کردار ختم نہیں، زیادہ جواب دہ ہونا چاہیے

یہاں ایک وضاحت ضروری ہے۔ قومی کمیشن قائم کرنے کا مقصد پارلیمان کو غیر مؤثر بنانا یا اس کے آئینی اختیار کو کسی دوسرے ادارے کے حوالے کرنا نہیں۔ پارلیمان کا قانون سازی اور آئینی ترمیم کا اختیار اپنی جگہ برقرار رہنا چاہیے۔

مجوزہ کمیشن کا کام انتخابی نظام کا جائزہ لینا، عوامی تجاویز جمع کرنا، ماہرین سے مشاورت کرنا، مختلف شعبوں کے نمائندوں کی آرا سننا اور قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنا ہوگا۔ الیکشن کمیشن ان تجاویز کا انتخابی اور انتظامی پہلو سے جائزہ لے سکتا ہے۔ اس کے بعد سفارشات پارلیمان کے سامنے پیش کی جائیں اور پارلیمان انہیں کھلی بحث، عوامی مشاورت اور آئینی تقاضوں کے مطابق زیرِ غور لائے۔

پارلیمان کو یہ بھی پابند کیا جا سکتا ہے کہ وہ کمیشن کی سفارشات پر مقررہ مدت میں اپنا مؤقف اور فیصلے کی وجوہات عوام کے سامنے پیش کرے۔ اس طرح کمیشن سفارشات دے گا، الیکشن کمیشن فنی رہنمائی فراہم کرے گا، عوام اپنی رائے دیں گے اور پارلیمان آئینی اختیار کے تحت حتمی قانون سازی کرے گی۔

یہی ایک ایسا راستہ ہو سکتا ہے جس میں اداروں کا احترام بھی برقرار رہے اور عوامی رائے کو بھی حقیقی اہمیت ملے۔

انتخابی اصلاحات کے چند بنیادی مطالبات

اس پوری بحث کو چند واضح اور قابلِ عمل مطالبات میں سمیٹا جا سکتا ہے:

1۔ مستقل انتخابی اصلاحاتی کمیشن

ایک غیر جانب دار قومی کمیشن قائم کیا جائے جس میں الیکشن کمیشن، آئینی و انتخابی ماہرین اور مختلف شعبوں کے باضابطہ منتخب نمائندے شامل ہوں۔

2۔ باقاعدہ بلدیاتی انتخابات

آرٹیکل 140-A کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے لیے مستقل کیلنڈر بنایا جائے اور منتخب مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دیے جائیں۔

3۔ ایک امیدوار، ایک نشست

قومی، صوبائی اور مقامی سطح پر ایک امیدوار کو ایک وقت میں صرف ایک نشست سے انتخاب لڑنے کی اجازت ہو۔ اس مقصد کے لیے آئین اور متعلقہ قوانین میں ترمیم کی جائے۔

4۔ خواتین کی براہِ راست انتخابی نمائندگی

مخصوص نشستوں کے موجودہ نظام کا جائزہ لیا جائے اور خواتین کو عمومی انتخابی حلقوں سے براہِ راست انتخاب لڑنے کے لیے زیادہ مواقع، سیاسی جماعتوں کی عملی حمایت اور مساوی انتخابی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ کسی بھی تبدیلی میں خواتین کی مؤثر نمائندگی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

5۔ انتخابی اخراجات اور سیاسی جماعتوں کے مالی معاملات میں شفافیت

امیدواروں کے انتخابی اخراجات، سیاسی جماعتوں کو ملنے والے عطیات اور ان کے مالی حسابات کا مؤثر آڈٹ اور بروقت عوامی انکشاف یقینی بنایا جائے۔

6۔ عوامی مشاورت اور جواب دہی

انتخابی قوانین میں اہم تبدیلی سے پہلے عوامی سماعتیں ہوں، مختلف شعبوں کی تجاویز حاصل کی جائیں اور پارلیمان و متعلقہ ادارے اپنے فیصلوں کی وجوہات عوام کے سامنے رکھیں۔

اب عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

صرف مطالبات لکھ دینے سے نظام تبدیل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے منظم، پُرامن اور غیر جماعتی عوامی کوشش کی ضرورت ہے۔

تاجروں کی انجمنیں، چیمبرز آف کامرس، بار ایسوسی ایشنز، ڈاکٹرز کی تنظیمیں، کسانوں کے نمائندے، ٹرانسپورٹرز، صحافتی ادارے، تعلیمی تنظیمیں اور سول سوسائٹی مل بیٹھ کر اس چارٹر پر بحث کریں۔ ہر شعبہ اپنے اندر شفاف طریقے سے نمائندہ منتخب کرے۔ ان نمائندوں کی مشترکہ مشاورت سے ایک قومی عوامی فورم تشکیل دیا جائے جو انتخابی اصلاحات کی تجاویز مرتب کرے۔

اس فورم کا مقصد کسی سیاسی جماعت کی مخالفت یا حمایت نہیں ہونا چاہیے۔ اسے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے یکساں طور پر سوال کرنے چاہییں۔ اپنی سفارشات الیکشن کمیشن، وفاقی حکومت، پارلیمان اور متعلقہ آئینی اداروں کے سامنے پیش کرنی چاہییں اور ان پر پیش رفت کی سالانہ رپورٹ عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔

یہ کام کسی ایک فرد یا ایک تنظیم کے بس کا نہیں، لیکن مختلف شعبوں کے لوگ اپنے اپنے دائرے میں آغاز کریں تو ایک بامقصد قومی مکالمہ ضرور شروع ہو سکتا ہے۔

آخر کب تک؟

پاکستان کسی ایک سیاسی جماعت، حکومت، اپوزیشن یا ادارے کا نام نہیں۔ یہ ہم سب کا ملک ہے۔ اس کے انتخابی نظام کی ساکھ، جمہوری اداروں کی مضبوطی اور عوامی نمائندگی کا معیار بھی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ہمیں ایسا نظام چاہیے جس میں ووٹر صرف انتخاب کے دن اہم نہ ہو، بلکہ منتخب نمائندہ ہر روز اپنے حلقے کے عوام کے سامنے جواب دہ ہو۔ جس میں بلدیاتی ادارے بااختیار ہوں، خواتین کو سیاسی عمل میں حقیقی مواقع ملیں، امیدوار انتخابی میدان میں واضح ذمہ داری کے ساتھ اتریں، سیاسی جماعتیں مالی طور پر شفاف ہوں اور معاشرے کے مختلف طبقات کی آواز قومی فیصلوں تک پہنچے۔

انتخابی اصلاحات کا مقصد کسی ایک جماعت کو فائدہ پہنچانا یا کسی دوسری جماعت کو نقصان پہنچانا نہیں ہونا چاہیے۔ مقصد ایسا نظام قائم کرنا ہے جس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کا اعتماد ہو اور سب سے بڑھ کر عوام اسے اپنا نظام سمجھیں۔

ووٹ عوام کا ہے، اس لیے انتخابی نظام بھی عوام کی مشاورت اور مفاد کے مطابق ہونا چاہیے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تاجر، وکیل، ڈاکٹر، کسان، ٹرانسپورٹر، چھوٹے کاروباری افراد، صحافی، اساتذہ، نوجوان اور دیگر شہری طبقات اپنے اپنے دائرے سے نکل کر ایک مشترکہ قومی مطالبہ سامنے لائیں:

انتخابی اصلاحات صرف اقتدار کے ایوانوں میں نہیں، عوام کی مشاورت سے طے کی جائیں۔

آخر کب تک عوام صرف ووٹ دیتے رہیں گے اور اپنے نظام کی تشکیل میں ان کی رائے ثانوی حیثیت رکھے گی؟

ووٹ عوام کا، اختیار عوام کا، جواب دہی بھی عوام کے سامنے!

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔