ہومکالم وبلاگزپاکستانی طالب علم کی موت: سیکیورٹی کمپنیوں کا مبینہ استحصال، اور ہیلتھ اینڈ سیفٹی کا سوال

پاکستانی طالب علم کی موت: سیکیورٹی کمپنیوں کا مبینہ استحصال، اور ہیلتھ اینڈ سیفٹی کا سوال

تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (یوکے)
برطانیہ کے علاقے ویسٹ یارکشائر کے شہر ویک فیلڈ سے ایک انتہائی دلخراش، افسوسناک اور المناک خبر سامنے آئی ہے جہاں ایک اٹھاٸیس سالہ پاکستانی ہونہار طالب علم حمزہ ریاض ورک جو سیکورٹی کی جاب پر تھے اپنی ہی کار میں مردہ پائے گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، سٹینلے روڈ، ایسٹ مور پر واقع ایک بند پب ”البیون ان“ کی خالی عمارت کے باہر سے کھڑی گاڑی سے نوجوان کی لاش ملنے پر اتوار یکم نومبر 2026 کی صبح آٹھ بجے پولیس کو اطلاع دی گئی۔
ویسٹ یارکشائر پولیس اور سی آئی ڈی اس واقعے کی انکوائری کر رہی ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر موت کو مشکوک نہیں سمجھا جا رہا ہے تاہم اصل وجوہات کے تعین کے لیے جسم سے کچھ ضروری اجزاء کے نمونے حاصل کر کے مزید تحقيقات کے لۓ لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حمزہ ریاض سیکیورٹی کی ڈیوٹی کے دوران شدید سردی سے بچنے کے لیے اپنی کار کا ہیٹر آن کر کے بیٹھے ہوں گے اور اسی دوران نیند آنے کے باعث ہیٹنگ سسٹم سے خارج ہونے والی زہریلی اور بو لیس ‘کاربن مونو آکسائیڈ’ گیس کی وجہ سے دم گھٹنے سے زندگی کی بازی ہار گئے۔ یہ گیس ایک ایسا خاموش قاتل (Silent Killer) ہے جو بند گاڑی یا کمرے میں آکسیجن کو ختم کر کے انسان کو بے خبری میں موت کی نیند سلا دیتی ہے اور یہ المیہ برطانیہ میں موجود تمام بین الاقوامی طلبہ اور تارکینِ وطن کے لیے بھی ایک سنگین انتباہ ہے کہ وہ سردی سے بچنے کے لیے گاڑی اسٹارٹ رکھ کر سونے کے اس ہلاکت خیز خطرے سے ہر صورت باخبر رہیں۔
مرحوم حمزہ ریاض ورک کا تعلق پاکستان کے ضلع گوجرانوالہ کی تحصیل نوشہرہ ورکاں کے گاؤں ‘پرتھی پور’ سے تھا۔ وہ چوہدری محمد ریاض ورک کے صاحبزادے اور فہد نواز ورک و عثمان ورک کے چھوٹے بھائی تھے۔ حمزہ نے حال ہی میں لیڈز یونیورسٹی سے اپنی ڈگری مکمل کی تھی اور وہ یارکشائر کے ایک مقامی کرکٹ کلب کے فعال کھلاڑی بھی تھے۔ چوہدری محمد ریاض ورک اور ان کے پورے خاندان نے یقیناً اپنے اس ہونہار بیٹے کو بڑے ارمانوں، دعاؤں اور روشن مستقبل کی امیدوں کے ساتھ برطانیہ روانہ کیا تھا۔ وہ ماں باپ جن کے بیٹے نے حال ہی میں لیڈز یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم کی ڈگری حاصل کی تھی، جن کے دلوں میں یہ ارمان انگڑائیاں لے رہے ہوں گے کہ اب ان کا بیٹا عملی زندگی میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے گا اور جن کی آنکھیں بڑھاپے میں بیٹے کی کامیابی کی خبر سن کر خوشی کے آنسوؤں سے نم ہو گئی تھیں انہیں کیا معلوم تھا کہ تقدیر نے ان کے لۓ اور ان کے پیارے بیٹے کے لۓ کیا لکھ رکھا تھا۔ ہوم آفس کی جانب سے تعلیم کی تکمیل پر دو سال کا ‘پوسٹ اسٹڈی ورک ویزا’ (PSW) ملنے کی خوشی ابھی گھر والے پوری طرح منا بھی نہ پائے تھے کہ عملی زندگی کے سفر کا آغاز ہی نوجوان بیٹے کی حادثاتی اور اچانک موت سے ہمیشہ کی جدائی پر ختم ہو گیا۔
اس المناک حادثے کے بعد برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی فضا سوگوار ہو گئی اور مرحوم کو جاننے والے عزیز و اقارب اور دوست احباب نے مرحوم کی نمازِ جنازہ یہاں برطانیہ میں بریڈفورڈ شہر کی جامع مسجد میں منگل کے روز ادا کی جہاں ہچکیوں اور سسکیوں کے درمیان اپنوں اور بیگانوں نے نم آنکھوں کے ساتھ حمزہ کو الوداع کہا جبکہ اگلے روز بدھ کو میت پاکستان روانہ کر دی گئی تھی جہاں جمعہ کے روز موضع پرتھی پور میں جوان سال مرحوم کا جسدِ خاکی پہنچنے پر کہرام مچ گیا۔ مرحوم کو ان کے آبائی گاؤں میں مولانا طارق عزیز باجوہ کی امامت میں شام چار بجے نمازِ جنازہ کے بعد سپردِ خاک کر دیا گیا جس میں سیاسی، سماجی، مذہبی شخصیات اور اہل علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کر کے سوگوار خاندان سے گہری ہمدردی اور دلی تعزیت اور مرحوم کی بخشش و مغفرت اور جنت میں اعلیٰ مقام کی دعا کی۔
اس المناک حادثے نے برطانیہ میں مقیم اور بالخصوص سیکیورٹی کے شعبے سے وابستہ پاکستانی و دیگر بین الاقوامی طلبہ میں تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کن کٹھن حالات میں کام کرتے ہیں۔ یونیورسٹیوں کی بھاری بھرکم فیسیں، مہنگی رہائش اور روزمرہ کے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے یہ طلبہ دن رات محنت کرنے پر مجبور ہیں۔
پراٸیویٹ سیکیورٹی کے شعبے کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ہوم آفس کے ماتحت باقاعدہ ‘سیکیورٹی انڈسٹری اتھارٹی’ (SIA) کا ادارہ موجود ہے، جو پرائیویٹ سیکیورٹی انڈسٹری ایکٹ 2001 کے تحت قائم کردہ ایک قانونی ادارہ ہے۔ ایس آئی اے کی بنیادی ذمہ داری نہ صرف ورکرز کو ضروری تربیت کے بعد لائسنس جاری کرنا ہے بلکہ ان کے کام کی جگہوں پر ہیلتھ اینڈ سیفٹی اور لیبر قوانین کے مکمل نفاذ کی نگرانی کرنا بھی ہے۔
ایس آئی اے کے رولز کے مطابق کسی بھی فرد کو لائسنس یافتہ سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے منظور شدہ شرائط پر پورا اترنا ہوتا ہے، اور یہ ادارہ سیکیورٹی کمپنیوں کے ‘اپرووڈ کانٹریکٹر اسکیم’ (ACS) کے تحت معیار کو جانچنے کا پابند ہے۔ لیکن اصل مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب بڑی کمپنیاں کنٹریکٹ حاصل کرنے کے بعد کٸ مرتبہ اپنا کام آگے ‘سب کنٹریکٹرز’ (چھوٹی کمپنیوں) کو دے دیتی ہیں جہاں نہ صرف سپلائی چین کی شفافیت ختم ہو جاتی ہے بلکہ ورکرز کا استحصال بھی شروع ہو جاتا ہے۔
ان چھوٹی کمپنیوں میں اکثر ایسے ناعاقبت اندیش لوگ شامل ہوتے ہیں جو طلبہ کی معاشی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف ایس آئی اے کے رہنما اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں بلکہ ان طلبہ سے انتہائی کم معاوضے پر، بغیر کسی تحریری کنٹریکٹ کے، بعض ساٸیٹ پر ضروری سہولیات مہیا کۓ بغیر دوسرے لفظوں میں’جدید غلامی’ (Modern Slavery) کے طرز پر کام لیا جاتا ہے اور سیکورٹی ورکرز کی محنت سے مڈل مین یعنی کنٹریکٹرز اور سب کنٹریکٹرز زیادہ پیسہ بناتے ہیں-
سب سے بڑھ کر یہ کہ سردی کے اس شدید موسم میں مختلف سائٹس پر ان ورکرز کے لیے ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے مروجہ قوانین اور بنیادی انسانی سہولیات جیسے بیٹھنے کی مناسب جگہ، ہیٹنگ یا واش روم کا بھی کٸ جگہوں پر کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں ہوتا۔ حمزہ ورک کی موت بھی مبینہ طور پر اسی لیے ہوئی کہ سائٹ پر سردی سے بچنے کا کوئی متبادل انتظام نہ تھا اور انہیں مجبوری میں اپنی گاڑی کے ہیٹر کا سہارا لینا پڑا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ سیکیورٹی انڈسٹری اتھارٹی (SIA) صرف لائسنس جاری کرنے یا دفاتر تک محدود رہنے کے بجائے، فیلڈ میں جا کر مین کنٹریکٹ ہولڈرز اور سب کنٹریکٹرز دونوں کا سخت آڈٹ کرے۔ ایس آئی اے کو اپنے قواعد کے تحت ان کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنی چاہیے جو لیبر قوانین اور ہیلتھ اینڈ سیفٹی ایکٹ کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ جو کمپنیاں اپنے ورکرز کی ویلفیئر، مناسب اجرت اور بنیادی حقوق کا خیال نہیں رکھتیں، انہیں فوری طور پر بلیک لسٹ کیا جانا چاہیے اور ان کے لائسنس منسوخ ہونے چاہئیں۔ حمزہ کی موت ایک کثیر الجہتی المیہ ہے جہاں ایک خاندان کا چراغ گل ہوا، والدین کی امیدوں کا خون ہوا، ایک کمیونٹی کا اثاثہ چھن گیا وہیں برطانیہ کے ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے دعووں پر کئی سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں جس کا ھوم آفس اور ایس آٸی اے کو نوٹس لینا چاہٸیے- (ختم شد)

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔