ہومبریکنگ نیوزامریکی وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس نے کانگریس پر مکمل قبضہ کر لیا، ٹرمپ کو تاریخی شکست

امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس نے کانگریس پر مکمل قبضہ کر لیا، ٹرمپ کو تاریخی شکست

واشنگٹن (تحریر: شاہ خالد خان ہمدانی)
ریزیڈنٹ ایڈیٹر، سب نیوز یو ایس اے

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ نتائج کے مطابق ووٹرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے بلیو ویو کا واضح پیغام دیا ہے۔ مہنگائی، ٹیرفز اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خلاف عوامی غصے نے اس نتیجے میں مرکزی کردار ادا کیا۔بدھ کی صبح تک زیادہ تر نتائج سامنے آ چکے تھے جن کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں کم از کم 53 سے 54 نشستوں کی اکثریت حاصل کر لی ہے جبکہ ایوانِ نمائندگان میں بھی 25 سے زائد نشستیں جیت کر واضح اکثریت قائم کر لی ہے۔ ریپبلکن پارٹی، جو انتخابات سے قبل دونوں ایوانوں پر قابض تھی، کو تاریخی نقصان اٹھانا پڑا۔کئی ایسی ریاستوں میں ڈیموکریٹس نے کامیابی حاصل کی جہاں کئی دہائیوں سے ریپبلکن کی بالادستی رہی تھی:

ٹیکساس**
میں جیمز ٹالاریکو نے ٹرمپ کے حمایت یافتہ کین پیکسٹن کو شکست دے کر 38 سالہ ریپبلکن تسلط کا خاتمہ کر دیا۔ اسی طرح جینا ہینوجوسا نے تین مرتبہ منتخب ہونے والے گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دے کر ٹیکساس کی پہلی لاطینی گورنر بن گئیں۔

  • کنساس میں آدم ہیملٹن نے موجودہ سینیٹر راجر مارشل کو ہرا کر 1932 کے بعد پہلی بار ڈیموکریٹک سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
  • ساتھ کیرولائنا میں اینی اینڈریوز نے ڈارلین گراہم کو شکست دی، جو تقریبا 30 سال بعد اس ریاست سے منتخب ہونے والی پہلی ڈیموکریٹک سینیٹر ہیں۔
  • آئیووا، اوہائیو، نارتھ کیرولائنا اور مین میں بھی ڈیموکریٹس نے اہم نشستیں چھین لیں۔
    میشیگن سے عبدالسید نے سینیٹ کی نشست جیت کر امریکی تاریخ کے پہلے مسلم سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ جارجیا اور نیو ہیمپشائر میں بھی ڈیموکریٹس نے اپنی نشستیں بچا لیں۔ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان میں بھی بڑی کامیابی حاصل کی اور ان اضلاع میں بھی فتح حاصل کی جہاں 2024 میں ٹرمپ کو بڑی برتری حاصل ہوئی تھی۔ حکیم جیفریز ممکنہ طور پر ایوانِ نمائندگان کے پہلے سیاہ فام اسپیکر بننے جا رہے ہیں۔ گورنر شپ کے انتخابات میں بھی ٹیکساس، آئیووا اور اوہائیو میں ڈیموکریٹس نے کامیابی حاصل کی۔ایگزٹ پولز کے مطابق ووٹرز انتہائی غیر مطمئن تھے۔ صدر ٹرمپ کی منظوری کی شرح تقریبا 38 فیصد رہی جو حالیہ دہائیوں میں کسی صدر کے لیے وسط مدتی انتخابات میں سب سے کم شرحوں میں سے ایک ہے۔ تقریبا تین چوتھائی ووٹرز نے معیشت کو خراب قرار دیا اور مہنگائی کی ذمہ داری ٹرمپ کی پالیسیوں پر ڈالی۔ 60 سے 65 فیصد ووٹرز نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو غلط قرار دیا۔ تقریبا نصف ووٹرز نے انتخابات کو ٹرمپ کی پالیسیوں کو مسترد کرنے کا موقع سمجھا۔ٹرمپ، جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران ووٹرز سے کہا تھا کہ وہ انہیں بیلٹ پر سمجھ کر ووٹ دیں، بعد میں کہا کہ وہ بیلٹ پر نہیں تھے اور اگر ہوتے تو بڑی کامیابی سے جیت جاتے۔ڈیموکریٹس کے دونوں ایوانوں پر قابض ہونے سے اب انہیں ٹرمپ کی قانون سازی روکنے، تقرریوں کی نگرانی کرنے اور حکومت کی پالیسیوں، خاص طور پر امیگریشن، ایران تنازع اور اخراجات پر جانچ پڑتال کا اختیار مل گیا ہے۔ کچھ نشستوں کے نتائج ابھی باقی ہیں، تاہم مجموعی طور پر یہ واضح ہے کہ واشنگٹن میں سیاسی منظرنامہ بدل چکا ہے۔نتائج کی حتمی تصدیق میں کچھ دن لگ سکتے ہیں، لیکن ڈیموکریٹس کی اس تاریخی کامیابی نے اگلے صدارتی انتخابات سے دو سال قبل ہی امریکی سیاست کا نقشہ تبدیل کر دیا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔