ہومپاکستانرومانیہ اور پاکستان کے درمیان تجارت، دفاع اور ثقافتی تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں، سفیر ڈین اسٹوئنسکو

رومانیہ اور پاکستان کے درمیان تجارت، دفاع اور ثقافتی تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں، سفیر ڈین اسٹوئنسکو

اسلام آباد (سب نیوز) رومانیہ کے پاکستان میں سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوئنسکو نے کہا ہے کہ رومانیہ اور پاکستان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، تعلیم، ٹیکنالوجی اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان 15 اکتوبر 1964 کو قائم ہونے والے سفارتی تعلقات چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہیں، جو باہمی احترام، دوستی، مشترکہ مفادات اور تعمیری مکالمے پر استوار ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اور رومانیہ کے تعلقات ایک نئے اور امید افزا مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے نمایاں مواقع موجود ہیں۔

ڈاکٹر ڈین اسٹوئنسکو نے کہا کہ رومانیہ نے ماضی میں پاکستان کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، خصوصاً تیل، سیمنٹ اور کھاد کی صنعتوں میں تکنیکی مہارت اور تعاون فراہم کیا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک اس تاریخی بنیاد کو آگے بڑھاتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، صنعتی جدت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نئی شراکت داریاں قائم کر سکتے ہیں۔

انہوں نے اقتصادی سفارت کاری کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم اس وقت تقریباً 15 کروڑ 60 لاکھ امریکی ڈالر ہے، تاہم یہ دونوں ممالک کی معاشی صلاحیت اور دستیاب مواقع کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔

رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ یورپی یونین کے رکن اور وسطی و مشرقی یورپ کے اہم صنعتی و تجارتی مرکز کی حیثیت سے رومانیہ پاکستانی کاروباری اداروں کو یورپی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کر سکتا ہے، جبکہ پاکستان کی کاروباری صلاحیت، صنعتی بنیاد اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مہارت رومانیہ کی کمپنیوں کے لیے پرکشش امکانات رکھتی ہے۔

انہوں نے مارچ 2026 میں رومانیہ کی بندرگاہ کانستانتسا اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کو دوطرفہ اقتصادی تعاون میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ بحری رابطوں کو مضبوط بنانے، تجارتی راستوں کو وسعت دینے اور بحیرہ اسود و دریائے ڈینیوب کے ذریعے جنوبی ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

سفیر نے اکتوبر 2025 میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) اور بخارسٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کو بھی کاروباری تعاون کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔

ڈاکٹر اسٹوئنسکو کے مطابق اکتوبر 2026 میں پاکستانی کاروباری وفد کا رومانیہ کا دورہ، جو اسلام آباد میں رومانیہ کے سفارت خانے کی کوششوں سے منعقد ہوا، اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اور اہم قدم تھا۔ اس موقع پر بخارسٹ میں پاکستان۔رومانیہ بزنس فورم کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، جہاز رانی، لاجسٹکس، تعلیم اور ٹیکسٹائل کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد نے شرکت کی اور مشترکہ تجارتی امکانات کا جائزہ لیا۔

دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی

دفاعی شعبے میں تعاون کا ذکر کرتے ہوئے رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی روابط، پیشہ ورانہ تبادلوں، فوجی تعلیم اور تربیت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رومانیہ کے شہر گالاتسی میں واقع ڈیمن شپ یارڈز میں تیار کیے گئے چار آف شور پٹرول ویسلز پاکستان نیوی کے لیے تعمیر کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق مستقبل میں فوجی طب، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیتوں اور کثیرالقومی تربیتی سرگرمیوں میں شرکت جیسے شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو محض سرکاری دوروں تک محدود رکھنے کے بجائے ٹھوس منصوبوں، ادارہ جاتی شراکت داری اور باہمی اعتماد کے ذریعے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی شرکت اور علاقائی و عالمی سلامتی کے لیے اس کی خدمات کو بھی سراہا۔

یورپی سلامتی کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اسٹوئنسکو نے کہا کہ نیٹو اور یورپی یونین کے رکن کی حیثیت سے رومانیہ اجتماعی سلامتی، بین الاقوامی قانون اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ نے یورپی سلامتی کے ماحول کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے، جبکہ بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر ڈرون حملوں اور دیگر سکیورٹی واقعات نے بحری نگرانی اور تجارتی راستوں کے تحفظ کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بحیرہ اسود میں محفوظ تجارتی نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی، دفاعی تیاری اور بین الاقوامی تعاون ضروری ہیں۔

تعلیم، تحقیق اور آئی ٹی میں تعاون کے مواقع

رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ تعلیم، سائنسی تحقیق اور تکنیکی جدت پاکستان اور رومانیہ کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے اہم شعبے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کی جامعات، تحقیقی مراکز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان روابط بڑھانے پر زور دیا۔

ان کے مطابق مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل تبدیلی، قابلِ تجدید توانائی اور پائیدار زراعت جیسے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے 20 نومبر 2025 کو منعقد ہونے والے پہلے پاکستان۔رومانیہ آئی ٹی فورم کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ فورم رومانیہ کے سفارت خانے نے پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) اور رومانیہ کی سافٹ ویئر انڈسٹری ایسوسی ایشن کے اشتراک سے منعقد کیا تھا، جس میں دونوں ممالک کی 100 سے زائد آئی ٹی کمپنیوں نے شرکت کی۔

فورم میں مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، فن ٹیک، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور آئی ٹی سروسز میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سفیر نے کہا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان روابط کو مشترکہ منصوبوں، کاروباری معاہدوں اور طویل مدتی شراکت داریوں میں تبدیل کیا جائے۔

انہوں نے یورپی پروگراموں ایراسمس پلس اور ہورائزن یورپ کو بھی تعلیمی تبادلوں، تحقیقی تعاون اور ادارہ جاتی روابط کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔

ثقافتی سفارت کاری اور عوامی روابط

ڈاکٹر ڈین اسٹوئنسکو نے کہا کہ ثقافتی سفارت کاری اور عوامی سطح پر روابط دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے اپریل 2026 میں پاکستان کی پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی تصویری نمائش کا ذکر کیا، جس میں پاکستان اور رومانیہ کے دوطرفہ تعلقات کی تاریخ کے اہم لمحات کو پیش کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں رومانیہ کی اوپیرا گلوکارہ جارجیانا کوستیا گلوگا کی جانب سے گائیکی کے کورسز کا انعقاد بھی ثقافتی تعاون کا حصہ ہے، جبکہ اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز میں رومانیائی زبان کے کورسز شروع کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔

سفیر نے 23 مارچ 2026 کو رومانیہ کے قومی چیمبر کوائر ’’مادریگال — مارین کانسٹنٹن‘‘ کی جانب سے پاکستان کے قومی ترانے کی پہلی پیشہ ورانہ کورل پیشکش کو بھی اہم ثقافتی سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ انا اونگورینو کی زیرِ ہدایت اس منصوبے میں قومی ترانے کی 1949 کی آرکیسٹرل کمپوزیشن کو انسانی آوازوں کے لیے ترتیب دیا گیا اور پاکستان کو قومی ترانے کا پہلا باضابطہ کورل نوٹیشن فراہم کیا گیا۔

انہوں نے 10 جون 2026 کو نیشنل لائبریری آف پاکستان، اسلام آباد میں ’’رومانیائی بُک شیلف‘‘ کے افتتاح کو بھی تعلیمی اور ثقافتی تعاون میں اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈاکٹر اسٹوئنسکو نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں تعلیم، سائنس، ثقافت، میڈیا، نوجوانوں اور کھیلوں کے شعبوں میں تعاون کے مختلف پروگراموں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

انہوں نے رومانیہ کے ڈپلومیٹک انسٹی ٹیوٹ اور پاکستان کی فارن سروس اکیڈمی، ریڈیو رومانیہ اور ریڈیو پاکستان، نیز دونوں ممالک کی قومی لائبریریوں کے درمیان مجوزہ معاہدوں کو بھی اہم قرار دیا۔

پاکستانی افرادی قوت کے لیے مواقع

رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ رومانیہ پاکستانی شہریوں کے لیے روزگار اور تعلیم کے مواقع میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افرادی قوت کی نقل و حرکت قومی قوانین اور یورپی یونین کے معیارات کے مطابق قانونی اور منظم انداز میں ہونی چاہیے۔

ان کے مطابق ہنرمند اور محنتی پاکستانی پیشہ ور افراد رومانیہ کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان میں رومانیہ کے اعزازی قونصل خانوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا، جو علاقائی سطح پر تجارتی، اقتصادی، ثقافتی اور تعلیمی روابط کو فروغ دینے میں معاون ہیں۔

سفیر نے بتایا کہ پاکستان میں پشاور میں رومانیہ کے اعزازی قونصل موجود ہیں، کراچی میں اعزازی قونصل نامزد کیے جا چکے ہیں، جبکہ لاہور میں نئے اعزازی قونصل کی تقرری کے لیے منظوری کا انتظار ہے۔

مستقبل کے لیے مضبوط شراکت داری کا عزم

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر ڈین اسٹوئنسکو نے کہا کہ رومانیہ پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے اور دونوں ممالک کی تاریخی دوستی کو عملی اور اقتصادی مواقع میں تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ، بحری رابطوں کی بہتری، دفاعی مکالمے کو وسعت دینے، تعلیمی شراکت داری اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے سے پاکستان اور رومانیہ کے تعلقات کو نئی جہت دی جا سکتی ہے۔

رومانیہ کے سفیر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ چھ دہائیوں سے زائد سفارتی تعلقات کے تجربے اور باہمی عزم کی بنیاد پر دونوں ممالک ایک مضبوط شراکت داری قائم کر سکتے ہیں، جو نہ صرف ان کے عوام کی خوشحالی بلکہ دونوں خطوں میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔