پشاور (سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پشاور میں ہوا جہاں اراکین اسمبلی نے صوبے میں گورنر راج کے بعد انہیں اعتماد میں نہ لینے پر شکوہ کیا جبکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا آن لائن اجلاس ہوا جس میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد کی صورت حال پر تفصیلی بحث کی گئی، جس میں صوبائی حکومت کی بحالی، اسپیکر بابر سلیم سواتی، معطل وزیراعلی سہیل آفریدی سمیت حراست میں لیے گئے کابینہ کے اور اورکان اسمبلی کی رہائی کے لیے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی حمایت کی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں شریک ارکان اسمبلی نے مرکزی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذاکراتی عمل میں پارلیمانی پارٹی کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اجلاس میں پارٹی قیادت کی جانب سے آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا جا رہا، اجلاس کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ سیاسی حالات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں تشویش کا اظہار کیا گیا کہ حکومت بھی نہیں اور اسمبلی بھی غیر فعال ہے، اسپیکر بابر سلیم سواتی، سہیل آفریدی سمیت کابینہ کے ارکان اور ارکان اسمبلی حراست میں ہیں اور آگے کی کیا حکمت عملی ہے کوئی لائحہ عمل نہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے کہا کہ حکومت کی بحالی، اسپیکر بابر سلیم سواتی، معطل وزیراعلی سہیل آفریدی سمیت حراست میں لیے گئے کابینہ اور ارکان اسمبلی کی رہائی کے لیے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکراتی عمل شروع کرنا چاہیے، اگر پارٹی قیادت مذاکرات کرتی ہے تو پارلیمانی پارٹی کی نمائندگی بھی ہونی چاہیے۔ مزید بتایا گیا کہ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا اگر پارلیمانی پارٹی میں سے کوئی مذاکرات آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
