اسلام آباد (سب نیوز) پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوئینیسکو نے کہا ہے کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان دوستانہ اور خوشگوار تعلقات قائم ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بھی مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دوطرفہ دفاعی تعاون کے حوالے سے جاری مشاورت مستقبل میں عملی اقدامات کی صورت اختیار کرے گی۔
وہ پیر کو اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں رومانیہ کے یومِ مسلح افواج کے سلسلے میں منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف (پروجیکٹس) ایئر مارشل شکیل غزنفر، اعلیٰ عسکری حکام، سفارت کاروں اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ 25 اکتوبر رومانیہ کے اہم قومی دنوں میں شامل ہے، جس موقع پر ملک کی مسلح افواج کی خدمات، تاریخی کارناموں اور ملک کے دفاع کے لیے خدمات انجام دینے والے فوجی اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو اور یورپی یونین کے رکن کی حیثیت سے رومانیہ اجتماعی دفاع، علاقائی استحکام اور یورپ میں امن کے قیام کے لیے ٹرانس اٹلانٹک شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
ڈاکٹر ڈین اسٹوئینیسکو نے کہا کہ یوکرین کے خلاف روسی فوجی کارروائی اور بدلتی ہوئی عالمی سلامتی کی صورتحال کے باعث یورپی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور مسلح افواج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ رومانیہ دفاعی شعبے کی جدیدکاری کو قومی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے، جس کے تحت فضائی اور میزائل دفاعی نظام، جنگی طیاروں، بری اور بحری افواج، بغیر پائلٹ طیاروں، ڈرون مخالف ٹیکنالوجی، فوجی بنیادی ڈھانچے اور لاجسٹکس کی بہتری پر توجہ دی جا رہی ہے۔
سفیر نے یورپی یونین کے دفاعی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی ایکشن فار یورپ (SAFE) پروگرام کے تحت رومانیہ کو 16.68 ارب یورو مختص کیے گئے ہیں، جن سے دفاعی سازوسامان کی خریداری اور دفاعی صنعت میں تعاون کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
بحیرہ اسود کی سلامتی اہم چیلنج
رومانیہ کے سفیر نے بحیرہ اسود کے خطے کی سلامتی کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین جنگ نے علاقائی استحکام کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران رومانیہ کی فضائی حدود میں ڈرون دراندازی کے واقعات گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تین گنا بڑھ گئے۔
انہوں نے کہا کہ رومانیہ نیٹو کے اجتماعی دفاع اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے اور یورپی یونین کے فوجی مشنز سمیت بین الاقوامی امن و سلامتی کی کوششوں میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے یوکرین کے لیے رومانیہ کی مسلسل معاونت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک فوجی تربیت اور بین الاقوامی تعاون کے مختلف اقدامات کے ذریعے یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے مشرقی یورپ اور مغربی بلقان میں امن و استحکام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
پاکستان اور رومانیہ کے درمیان دفاعی شراکت داری میں پیش رفت
پاکستان اور رومانیہ کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر ڈین اسٹوئینیسکو نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون گزشتہ چند برسوں کے دوران مزید مستحکم ہوا ہے اور یہ شراکت داری باہمی مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے فروری 2026 میں اسلام آباد میں منعقدہ مشترکہ فوجی کمیٹی کے چوتھے اجلاس کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں دوطرفہ دفاعی تعاون کو وسعت دینے کے مختلف امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ان کے مطابق مذاکرات میں مشترکہ انسدادِ دہشت گردی تربیت، فضائی افواج کے تربیتی کورسز، فوجی تعلیم کے شعبے میں تجربات کا تبادلہ، مشترکہ بحری مشقیں اور دفاعی صنعت میں تعاون شامل تھے۔ اس موقع پر بحیرہ اسود اور جنوبی ایشیا کی سلامتی کی صورتحال سمیت اہم بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
رومانیہ کے سفیر نے امید ظاہر کی کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں مختلف عملی اقدامات کیے جائیں گے، جن سے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں رومانیہ کی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان (UNMOGIP) میں بھی فوجی مبصرین فراہم کر رہا ہے۔
پاکستانی مسلح افواج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین
ڈاکٹر ڈین اسٹوئینیسکو نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو سراہتے ہوئے پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، عزم اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوجی اہلکاروں کی قربانیوں اور بین الاقوامی امن مشنز، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں اور دنیا کے مختلف خطوں میں انسانی مشکلات کم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو قابلِ قدر قرار دیا۔
رومانیہ کے سفیر نے اپنے خطاب کے اختتام پر دونوں ممالک کی دوستی اور قریبی تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا: رومانیہ، پاکستان دوستی زندہ باد۔
