ہومپاکستانملک ریاض نے غلطیاں کی ہیں، عدالتوں کا سامنا کرکے دوبارہ کاروبار شروع کریں، چیئرمین نیب نذیر احمد

ملک ریاض نے غلطیاں کی ہیں، عدالتوں کا سامنا کرکے دوبارہ کاروبار شروع کریں، چیئرمین نیب نذیر احمد

اسلام آباد (سب نیوز)چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب)لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر احمد نے کہا ہے کہ بحریہ ٹاون کے سربراہ ملک ریاض نے غلطیاں کی ہیں، عدالتوں کا سامنا کریں اوراس کے بعد دوبارہ کاروبار شروع کرنا چاہیے، پیسہ بنانے والوں میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے، آئندہ پریس بریفنگ میں زمینوں سے فائدہ اٹھانے والوں کے نام بھی ظاہر کریں گے۔
صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین نیب نذیراحمد نے کہا کہ نیب نے پاکستان ریلوے کے ساتھ مل کر ایسا کام کیا ہے جو گزشتہ 75 سال میں نہیں ہوا، ریلوے کی زمین واگزار کرانے کے لیے محکمے کا تعاون ضروری تھا، اس کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ زمینوں پر قابضین سے مسروقہ مال برآمد کیا جائے گا اور کارروائی کے دوسرے مرحلے میں مزید ریکوری ہوگی۔ ریلوے کی زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف مقدمات بنائے جائیں گے اور ان کے نام بھی سامنے آئیں گے۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ریکور کی گئی زمین کی مالیت میں اس پر موجود تعمیرات کی قیمت شامل نہیں، متروکہ املاک میں بھی توقع سے زیادہ ریکوری کا امکان ہے، جبکہ ریکوری کے اعداد و شمار پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی)سے زیادہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ مالی اثاثوں کو بروئے کار لا کر ایم ایل ون اور سرکلر ریلوے جیسے منصوبے بنائے جا سکتے ہیں بدقسمتی سے پاکستان کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرضے لینا پڑتے ہیں، تاہم دستیاب اثاثوں سے بھی ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
چیئرمین نیب نے بتایا کہ ادارے کی 37 ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں، موجودہ کام مکمل ہوتے ہی ٹیمیں خیبرپختونخوا اور بلوچستان جائیں گی، جبکہ راولپنڈی میں بھی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کے ساتھ مل کر بھی کام کیا گیا ہے اور 22 سال پرانے ہوٹل کا معاملہ حل کرایا ہے۔ ہوٹل کی تعمیر کے پہلے مرحلے کا آغاز آئندہ سال 15 جون تک ہوگا۔پاور سیکٹر سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں نیت صاف ہے اور کام کرکے نتائج دیے جائیں گے، پاور سیکٹر پر ہونے والا کام آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں نظر آئے گا، تاہم فی الحال چھوٹے ایس ڈی اوز کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ہیڈکوارٹرز میں تمام ریونیو کا کلاڈ اور کاپی شدہ ریکارڈ موجود ہے۔ ڈی جی وقار چوہان اچھے افسر ہیں اور انہوں نے کوئی کرپشن نہیں کی، سینیٹ کمیٹی میں 50 کروڑ روپے کی حد ختم کرنے کا کہا تھا، کیونکہ اب لوگ 50 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے معاہدے کرتے ہیں۔چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ گلف جنگ کی وجہ سے پیسہ بیرون ملک جانے کا عمل رک گیا ہے اور اب رقم واپس آنا شروع ہوگئی ہے، جمہوریت کے چیمپئن کہلانے والے ممالک نے بھی پیسہ لانے کے لیے استثنی دے رکھا ہے۔انہوں نے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے حوالے سے کہا کہ ایک لاکھ 47 ہزار بچے بیرون ملک پڑھ رہے ہیں جبکہ ان کے والدین ٹیکس ادا نہیں کرتے، تعلیمی اداروں کو خطوط لکھنے پر والدین کی تفصیلات مانگی جاتی ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔