ہوماسلام آبادسی ڈی اے میں پلاٹس کی ڈبل الاٹمنٹ کا معاملہ ، ایف آئی اے کی جانب سے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع ، سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹیکنیکل محمد عارف گرفتار ، تفصیلات سب نیوز

سی ڈی اے میں پلاٹس کی ڈبل الاٹمنٹ کا معاملہ ، ایف آئی اے کی جانب سے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع ، سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹیکنیکل محمد عارف گرفتار ، تفصیلات سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز) وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) میں پلاٹس کی ڈبل الاٹمنٹ کا معاملہ ، ایف آئی اے کی جانب سے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع ، سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹیکنیکل محمد عارف گرفتار کر لئے گئے ۔

تفصیلات کے مطابق سی ڈی اے میں پلاٹس کی ڈبل الاٹمنٹ کے معاملے پر ایف آئی اے نے درج مقدمے میں تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹیکنکل محمد عارف کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور جو جو بھی ملوث ہیں انہیں دستاویزی شواہد کی بنیاد پر گرفتار کیا جا رہا ہے تاہم مرکزی ملزمان ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکے۔

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے)کے کارپوریٹ کرائم سرکل اسلام آباد نے سی ڈی اے کے لینڈ اینڈ ری ہیبلیٹیشن ڈائریکٹوریٹ میں مبینہ غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ اور دوہری بحالی کے فوائد دینے کے معاملے پر مقدمہ درج کیا تھا ۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق، ایف آئی اے اسلام آباد زون کی انکوائری نمبر 35/2024 کے دوران انکشاف ہوا کہ سی ڈی اے کے بعض افسران و اہلکاروں نے مبینہ طور پر نجی افراد کے ساتھ ملی بھگت کرکے سیکٹر آئی-12/4 اسلام آباد میں 10 پلاٹوں کی فائلیں غیر قانونی طور پر الاٹ کیں۔دستاویز کے مطابق، معاملے میں جعل سازی، خیانتِ مجرمانہ، اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور دوہری مراعات حاصل کرنے کے الزامات شامل ہیں۔

ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 419، 420، 468، 471 اور 109 سمیت دیگر متعلقہ قانونی دفعات درج کی گئی ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق، اسلم ولد سمن دار کے قانونی ورثا کے نام پر پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے لیے مبینہ طور پر غیر قانونی دعووں پر کارروائی کی گئی۔ دستاویز میں دعوی کیا گیا ہے کہ 11 ستمبر 2017 کو جمع کرائے گئے دعوے کی بنیاد پر 10 رہائشی پلاٹوں کی الاٹمنٹ منظور کی گئی، جن کے نمبر 958، 921، 949، 918، 963، 916، 920، 1088، 908 اور 926 بتائے گئے ہیں۔ ہر پلاٹ کا سائز 3060 فٹ درج ہے۔مقدمے میں سی ڈی اے کے متعدد سابق افسران و اہلکاروں، جن میں سابق ڈائریکٹر لینڈ، ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور ڈیلنگ اسسٹنٹس شامل ہیں، کے نام درج کیے گئے ہیں۔ نجی افراد کے نام بھی ایف آئی آر کا حصہ ہیں، جبکہ بعض دیگر اہلکاروں کے کردار کا تعین تفتیش کے دوران کیے جانے کا ذکر ہے۔ایف آئی اے کی دستاویز کے مطابق، مقدمہ باقاعدہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد درج کیا گیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔