ہومپاکستانپاکستانی کاروباری وفد کا رومانیہ میں جانوروں کی فلاح و بہبود کے مرکز کا دورہ

پاکستانی کاروباری وفد کا رومانیہ میں جانوروں کی فلاح و بہبود کے مرکز کا دورہ

رومانیہ(سب نیوز)پاکستان رومانیہ بزنس کونسل کے ایک پاکستانی کاروباری وفد نے رومانیہ کے شہر میں جانوروں کی فلاح و بہبود کے مرکز کا دورہ کیا اور آوارہ جانوروں کے انسانی اور پائیدار انتظام سے متعلق رومانیہ کے تجربات کا جائزہ لیا۔کراچی سے تعلق رکھنے والے وفد کی قیادت رومانیہ کے سندھ میں نامزد اعزازی قونصل، اور چیف آپریٹنگ آفیسر عاطف فاروقی نے کی۔سیو دی ڈاگ اینڈ اینملزکی ڈائریکٹر جنرل ایڈریانا سوسما نے وفد کا استقبال کیا اور ادارے کی جانب سے جانوروں کے ریسکیو، بحالی، ویٹرنری خدمات، نس بندی، ویکسینیشن، مائیکرو چِپنگ، گود لینے اور آوارہ جانوروں کی آبادی کو انسانی بنیادوں پر کنٹرول کرنے کے اقدامات پر بریفنگ دی۔

وفد کو بتایا گیا کہ رومانیہ نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران آوارہ کتوں، جانوروں کو چھوڑنے، غیرمحدود افزائش نسل اور جانوروں کے تحفظ کے لیے محدود سہولیات جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے موثر نظام وضع کیا ہے۔ ان اقدامات میں نس بندی، ویکسینیشن، مائیکرو چِپنگ، طبی علاج، ذمہ دارانہ گود لینے اور سرکاری اداروں و سول سوسائٹی کے درمیان تعاون کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ملاقات کے دوران اس امر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ رومانیہ کے کامیاب تجربات کو پاکستان، بالخصوص کراچی اور صوبہ سندھ میں آوارہ کتوں کے انتظام، ویٹرنری انفراسٹرکچر، نس بندی و ویکسینیشن پروگرامز، ذمہ دارانہ گود لینے اور عوامی آگاہی کے لیے کس طرح قابلِ عمل بنایا جا سکتا ہے۔سیو دی ڈاگ نے 2002 میں میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا۔ ادارے نے دو دہائیوں کے دوران ہزاروں لاوارث، نظرانداز اور تشدد کا شکار جانوروں کی مدد کی ہے اور ریسکیو، علاج، بحالی، نس بندی، گود لینے اور کمیونٹی آگاہی پر مشتمل ایک جامع ماڈل تیار کیا ہے۔وفد نے مرکز میں موجود جدید ویٹرنری سہولیات، کتوں اور بلیوں کے لیے مخصوص شیلٹرز جبکہ ریسکیو کیے گئے گھوڑوں اور گدھوں کے لیے قائم سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔ وفد نے ادارے کے رضاکارانہ اور جانوروں کو گود لینے کے پروگرامز میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔رومانیہ کے پاکستان میں سفیر ڈاکٹر ڈان سٹوئنیسکو نے اس موقع پر کہا کہ کسی بھی ملک کو اس بات سے بھی جانچا جانا چاہیے کہ وہ اپنے جانوروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رومانیہ نے آوارہ جانوروں کے مسائل سے نمٹنے کے اپنے تجربات سے اہم اسباق حاصل کیے ہیں جبکہ سیو دی ڈاگ جیسے ادارے ثابت کرتے ہیں کہ ہمدردی، پیشہ ورانہ مہارت اور طویل المدتی عزم کے ذریعے نمایاں نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ رومانیہ کی خواہش ہے کہ اپنے کامیاب تجربات پاکستانی دوستوں کے ساتھ شیئر کرے اور کراچی و سندھ میں ان کے قابلِ عمل اطلاق کی حوصلہ افزائی کرے۔ ان کے مطابق جانوروں کی فلاح و بہبود صرف جانوروں کے تحفظ کا معاملہ نہیں بلکہ صحت عامہ، شہری تحفظ، ذمہ دار حکمرانی اور آنے والی نسلوں کو منتقل کیے جانے والے معاشرتی اقدار سے بھی جڑا ہوا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ دورہ رومانیہ اور پاکستان کے اداروں اور تنظیموں کے درمیان عملی تعاون کی بنیاد بنے گا اور رومانیہ کے تجربات کو پاکستان میں عملی بہتری میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔دورہ رومانیہ کے وسیع پروگرام کا حصہ تھا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور تجارت و سرمایہ کاری کے علاوہ سماجی ذمہ داری، کمیونٹی ڈویلپمنٹ اور جانوروں کی فلاح و بہبود سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا تھا۔رومانیہ کے سفارتخانے اسلام آباد اور رومانیہ کی وزارت خارجہ کی معاونت سے ہونے والے اس دورے نے اس امر کو اجاگر کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو روایتی تجارت اور سرمایہ کاری سے آگے بڑھا کر مشترکہ سماجی مسائل کے حل اور کامیاب تجربات کے تبادلے تک وسعت دی جا سکتی ہے۔پاکستانی وفد نے سیو دی ڈاگ کی ڈائریکٹر جنرل ایڈریانا سوسما اور ان کی ٹیم کی میزبانی، پیشہ ورانہ خدمات اور جانوروں کے تحفظ کے لیے ان کی کاوشوں کو سراہا۔وفد نے اس امید کا اظہار کیا کہ حاصل ہونے والا تجربہ پاکستان میں مقامی حکام، ویٹرنری ماہرین اور جانوروں کی فلاح و بہبود کے اداروں کے ساتھ مزید رابطوں اور تعاون کی راہ ہموار کرے گا، جس سے سندھ میں آوارہ جانوروں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے انسانی، پائیدار اور مثر حکمت عملی تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔