ہومتازہ ترینایف پی سی سی آئی کی مرکزی قائمہ کمیٹی برائے امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ ٹریڈ کا اجلاس ، پالیسی اصلاحات پر زور

ایف پی سی سی آئی کی مرکزی قائمہ کمیٹی برائے امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ ٹریڈ کا اجلاس ، پالیسی اصلاحات پر زور

اسلام آباد(سب نیوز)ایف پی سی سی آئی کے صدر کے سیکرٹریٹ، اسلام آباد میں “درآمد و برآمد تجارت” سے متعلق مرکزی قائمہ کمیٹی کا سال 2026 کے لیے تیسرا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اعلی سطحی اجلاس کی میزبانی کمیٹی کے کنوینر طاہر رشید بھٹہ نے کی، جبکہ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر طارق محمود جدون نے بھی اس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ڈپٹی کنوینرز آف دی کمیٹی سید ذوالفقار حیدر اور سامعہ راشد، کے علاوہ کمیٹی کے اراکین رخسار احمد عسکری، متعفف وہاج، فرخ الیاس، علی حسن، حنا ذوالفقار، عائشہ افضل، سمیرا نوید، مصباح ، صائمہ لطیف قائمہ کمیٹی کے کنوینر عادل عبید نے شرکت کی۔

اجلاس میں پاکستان کے بیرونی تجارتی ڈھانچے اور صنعتی مسابقت کو بہتر بنانے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اجلاس کے اہم نکات میں شامل تھے: تجارت اور سرمایہ کاری کی پالیسی میں اہم اصلاحات اور درآمد و برآمد میں سہولت کاری پر غور و خوض؛ صنعتی ترقی، برآمدی مسابقت، ٹیرف (محصولات)کو معقول بنانے اور ڈیوٹی میں ایڈجسٹمنٹ کے امور کا جائزہ؛ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبارکی ترقی، برآمد کنندگان کے لیے معاونت کے نظام، مارکیٹ تک رسائی میں توسیع اور برآمدات کے تنوع کے لیے حکمت عملی کی تشکیل؛ نیز سرکاری و نجی شعبے کے درمیان ہم آہنگی کا جائزہ اور تجارت و صنعت پر اثر انداز ہونے والی پالیسی کی رکاوٹوں کو دور کرنا۔ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر طارق محمود جدون نے مشترکہ پالیسی سازی کی اشد ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: “پاکستان کی برآمدی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان بہترین ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ ہمیں فوری طور پر ٹیرف کے ڈھانچے کو بہتر بنانے، پالیسی کی رکاوٹوں کو دور کرنے اور اپنے ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کو بھرپور معاونت فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مسابقتی عالمی منڈیوں میں ترقی کر سکیں۔

کمیٹی کے کنوینر، طاہر رشید بھٹہ نے کمیٹی کے آئندہ کے قابلِ عمل لائحہ عمل پر زور دیتے ہوئے کہا: “آج ہماری بات چیت کا مرکز ٹھوس معاشی حل ہیںجن میں تجارتی و سرمایہ کاری اصلاحات سے لے کر برآمدات کے دائرہ کار کو بامعنی طور پر وسیع کرنے تک کے امور شامل ہیں۔ کمیٹی صنعتی ترقی کو آگے بڑھانے اور پاکستانی مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک پائیدار رسائی کو یقینی بنانے کی خاطر قابلِ عمل سفارشات پیش کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔”اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کنوینر جناب سید ذوالفقار حیدر نے زور دیا: “ہماری تجارتی گزرگاہوں کو مستحکم کرنا اور آپریشنل سطح پر بیوروکریسی کی رکاوٹوں کو ختم کرنا سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور ہمارے کلیدی برآمدی شعبوں میں پائیدار ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔”ڈپٹی کنوینر سمیعہ راشد نے جامعیت (شمولیت)کے کردار پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا: “مین اسٹریم برآمدی نظام میں خواتین تاجروں اور چھوٹے کاروباروں کو بااختیار بنانا بہت اہم ہے۔ ہمارے متنوع ایس ایم ای سیکٹر کی حقیقی صلاحیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہمیں ٹارگٹڈ سہولت کاری، صلاحیت سازی اور مالیاتی شمولیت کو یقینی بنانا ہوگا۔”

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔