لاہور:نجی دورے کے لیے سرکاری طیارے کے مبینہ استعمال اور ‘پڑوسی صوبوں’ سے متعلق متنازع بیان پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا دفاع کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے ” واضح طور پہ بتا دیا گیا ہے کہ لندن دورے کا خرچہ مریم نواز نے خود ادا کرنا ہے۔”گزشتہ روز کے پی اسمبلی میں اراکین نے مریم نواز کو نہ صرف شدید تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ ان کے خلاف اکثریتی قرارداد منظور کرتے ہوئے آرٹیکل 6 کے تحت ‘سنگین غداری کے حوالے’ سے ضروری کارروائی کرنے کی سفارش بھی کی۔
دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں بھی مریم نواز کے لندن کے مبینہ نجی دورے کے لیے پنجاب حکومت کا سرکاری طیارہ استعمال کیے جانے پر فوری بحث کرانے کی تحریک جمع کرائی گئی۔
اس پیش رفت پر مریم نواز کا دفاع کرنے کے لیے سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے ایکس کا رخ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ “آج کل تکلیف جہاز اور مریم نواز کے بیان کی نہیں ہے تکلیف مریم نواز کی کارکردگی اور بڑھتی ہوئی مقبولیت سے ہے۔”
انہوں نے مطالبہ کیا کہ “وزیراعلی پنجاب کے بیان کو صوبوں میں نفرت اور قوم میں تقسیم پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے والوں کو خود عوام سےمعافی مانگنی چاہئے۔”
انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان کی گفتگو پر سخت ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ “پی ٹی آئی اور ان کی قیادت کے کردار اور خواتین کے خلاف بدبودار زبان درازی کی قابل نفرت روایت کے عین مطابق ہے۔”ان کا مزید کہنا تھا کہ “دہشت گرد بندوق اور خود کش جیکٹ سے انسانوں کے چیتھڑے اڑاتے ہیں اور ان کے سہولت کار زبان کو انسانوں بالخصوص خواتین کی توہین کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔”
اسی طرح پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وہ پہلے ہی واضح کرچکی ہیں کہ وزیراعلیٰ اپنے لندن دورے کے تمام اخراجات خود ادا کریں گی۔ ان کے مطابق مریم نواز نے لندن روانگی سے قبل بھی اس حوالے سے واضح ہدایات جاری کردی تھیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ دورہ مکمل ہونے سے پہلے ہی تنقید اور پروپیگنڈا شروع کردیا گیا، حالانکہ سرکاری نظام میں اخراجات کا پہلے تخمینہ لگایا جاتا ہے اور بعد ازاں ضابطے کے مطابق چالان کے ذریعے ادائیگی کی جاتی ہے۔
انہوں نے تنقید کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے اپنے دور حکومت میں قومی خزانے کے اربوں روپے خرچ کیے، وہ اب دوسروں پر الزامات لگا رہے ہیں۔
یا رہے کہ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے لندن دورے کے لیے صوبائی حکومت کا سرکاری طیارہ استعمال کیے جانے کے الزام پر فوری بحث کے لیے تحریک التوا اپوزیشن رکن وقاص محمود مان نے جمع کرائی تھی۔
تحریک میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے دورے کے دوران سرکاری خزانے سے ایندھن، پارکنگ اور دیگر متعلقہ اخراجات کی مد میں تقریباً ایک کروڑ 25 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔
تحریک کے مطابق میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ مریم نواز اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے لندن گئی تھیں اور مبینہ طور پر اس سفر کے لیے صوبائی حکومت کا سرکاری طیارہ استعمال کیا گیا۔
وقاص محمود مان نے مطالبہ کیا کہ حکومت واضح کرے کہ سرکاری طیارہ کس قانونی و انتظامی اختیار کے تحت استعمال کیا گیا اور اس کے اخراجات کس مد میں درج کیے گئے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا سرکاری خزانے سے ہونے والے اخراجات کے لیے مطلوبہ قانونی اور مالی منظوری حاصل کی گئی تھی۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) پنجاب نے بھی سرکاری طیارے کے استعمال کے دفاع پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ وضاحت کریں کہ نجی دورے کے لیے ریاستی طیارہ کس ضابطے کے تحت استعمال کیا گیا۔ٹی ٹی اے پی کے سیکریٹری اطلاعات شایان بشیر نے کہا کہ حکومت نے پرواز کے استعمال کا اعتراف تو کیا ہے لیکن ادائیگی کے حوالے سے کوئی دستاویز پیش نہیں کی۔
انہوں نے سوال کیا کہ طیارہ نجی استعمال کے لیے کس قانون کے تحت جاری کیا گیا، حکم نامے پر کس نے دستخط کیے، کتنی رقم ادا کی گئی، کس شرح سے ادائیگی ہوئی، رقم کس سرکاری اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی اور اس کی رسید یا انوائس کہاں ہے۔
‘خرچہ مریم نواز نے خود ادا کرنا ہے’، سرکاری طیارے کے مبینہ ذاتی استعمال پر پنجاب حکومت کی وضاحت
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
