پاکستان-افریقہ اقتصادی کوریڈور نئی منڈیوں اور سرمایہ کاری کے مواقع کھول سکتا ہے: صدر آئی سی سی آئی
اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان اور افریقہ کے تعلقات کو روایتی سفارتی روابط سے آگے بڑھا کر تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کے مواقع پر مبنی ایک جامع اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ پاکستان افریقہ اکنامک کونسل (PAEC) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 54 ممالک پر مشتمل افریقہ، وسیع صارف منڈیوں، وافر قدرتی وسائل اور نوجوان آبادی کے باعث صرف مستقبل کی نہیں بلکہ موجودہ دور کی بھی ایک اہم اقتصادی منڈی ہے۔ پاکستان کو اپنی برآمدی منڈیوں میں تنوع پیدا کرنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے افریقی ممالک کے ساتھ مضبوط اقتصادی روابط استوار کرنے چاہئیں۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ پاکستان کو دواسازی، ٹیکسٹائل و گارمنٹس، سرجیکل و کھیلوں کا سامان، چاول و زرعی مصنوعات، انجینئرنگ مصنوعات، تعمیرات، آئی ٹی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں افریقی منڈیوں میں نمایاں مسابقتی صلاحیت حاصل ہے۔ تاہم پاکستان کی حکمت عملی صرف افریقہ کو مصنوعات فروخت کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ مشترکہ پیداوار، جوائنٹ وینچرز، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے اشتراک کو بھی فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ “اصل موقع صرف افریقہ کو فروخت کرنے میں نہیں بلکہ افریقہ کے ساتھ مل کر پیداوار کرنے میں ہے۔” اس طرزِ عمل سے دونوں خطوں کے درمیان دیرپا تجارتی تعلقات قائم، ویلیو چینز مضبوط اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
آئی سی سی آئی کے صدر نے افریقی کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو صرف مصنوعات کے ایک سپلائر کے طور پر نہیں بلکہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور وسیع علاقائی منڈیوں تک رسائی کے ایک اہم گیٹ وے کے طور پر دیکھیں، جبکہ پاکستانی کاروباری اداروں کو بھی افریقہ میں اپنی تجارتی اور سرمایہ کاری کی موجودگی مضبوط کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اہم اقتصادی دوراہے پر کھڑا ہے اور اسے نئی منڈیوں، نئے سرمایہ کاری شراکت داروں اور برآمدات پر مبنی ترقی کے نئے مواقع کی ضرورت ہے، جبکہ افریقہ ان تینوں شعبوں میں وسیع امکانات رکھتا ہے۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ بزنس کونسلز اور چیمبرز آف کامرس سفارتی روابط کو ٹھوس اقتصادی نتائج میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “حکومتیں دروازے کھول سکتی ہیں، سفارتکار روابط قائم کر سکتے ہیں، لیکن کاروباری برادری کو ان دروازوں سے گزر کر تعلقات کو معاہدوں، سرمایہ کاری اور روزگار میں تبدیل کرنا ہوگا۔” انہوں نے پاکستان افریقہ اقتصادی تعاون کے لیے کاروباری وفود، بی ٹو بی روابط، تجارتی نمائشوں، سرمایہ کاری فورمز، بینکنگ رابطوں، براہِ راست شپنگ و فضائی روابط اور ڈیجیٹل تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
نوجوانوں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے آئی سی سی آئی صدر نے کہا کہ پاکستان اور افریقہ دونوں کو نوجوان آبادی کی صورت میں ایک غیر معمولی اقتصادی طاقت حاصل ہے جسے ٹیکنالوجی، ای کامرس، مصنوعی ذہانت، فن ٹیک، جدت اور ہنرمندی کے شعبوں میں تعاون کے ذریعے معاشی ترقی کا محرک بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اسلام آباد کا ایک نوجوان کاروباری شخص نیروبی، لاگوس، کیگالی یا جوہانسبرگ کے کسی نوجوان کاروباری شخص کے ساتھ روایتی تجارتی وفد کا انتظار کیے بغیر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کاروباری شراکت قائم کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل رابطہ کاری اقتصادی سفارتکاری کا ایک طاقتور نیا ذریعہ بن سکتی ہے۔
سردار طاہر محمود نے پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے چیئرمین شہباز علی ملک کو پالیسی سازوں، سفارتکاروں، کاروباری رہنماؤں اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی آئی پاکستان اور افریقہ کے درمیان مضبوط تجارتی و اقتصادی روابط کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
