سرینگر: کشمیری رہنما یاسین ملک نے نے سری نگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرا دیا ہے جس میں کہا ہے کہ بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، سزائے موت بھی مل جائے تو قبول ہے۔
حلف نامہ میں یاسین ملک نے اپنا مقدمہ مزید لڑنے سے انکار کر دیا اور لکھا کہ اپنا معاملہ خدا پر چھوڑتا ہوں، بھارتی حکومت مجھے 36 سال بعد ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے پھانسی دینے کی سازش کر چکی ہے۔
یاسین ملک نے 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کے الزام کی دوٹوک تردید کی۔
یاسین ملک کو سرلا بھٹ کی لاش کے ساتھ پڑے مبینہ جے کے ایل ایف نوٹ کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا جبکہ جے کے ایل ایف نوٹ کی ریکارڈ سے بعد میں عدم موجودگی پر یاسین ملک نے سوال اٹھایا۔
یاسین ملک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سرلا بھٹ کے قتل سے 11 روز قبل شدید زخمی ہونے کے باعث قتل کی منصوبہ بندی یا ہدایات دینا ممکن نہیں تھا، بھارتی ایجنسیوں نے پاکستان سے تعلقات بڑھانے کو کہا اور بعد میں اسی کو میرے خلاف بطور ثبوت پیش کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ واجپائی حکومت کے دور میں اجیت دوول، برجیش مشرا اور آر کے مشرا نے پاک بھارت تعلقات میں مثبت کردار ادا کرنے کو کہا گیا، 2019 اور 2024 کے انتخابات میں پاکستان مخالف پالیسی کے طور پر میرا نام، تصویر اور عدالتی کارروائیوں کو سیاسی بیانیے کے لئے استعمال کیا گیا۔
یاسین ملک نے عدالت کو بتایا کہ سیاسی انتقام کے خلاف احتجاًجاً مزید مقدمہ نہ لڑنے کا فیصلہ کیا، عدالت سزائے موت بھی عائد کرے تو کشمیر کے لئے قبول ہے، عدالتی سزا قبول کرنے کا مطلب عائد جرم قبول کرنا نہیں ہے۔
حلف نامے میں طویل قید، تنہائی اور والدہ، اہلیہ اور بیٹی سے برسوں کی جدائی کا ذکر کیا، یاسین ملک نے مشعال ملک کو طویل قید اور ممکنہ پھانسی کے انتظار کی زندگی سے آزاد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
یاسین ملک نے مشعال کے لیے لکھا کہ آپ نے بہادری کےساتھ میرا ساتھ دیا، میں آپ کو اپنی رفاقت سے آزاد کرتا ہوں، بیٹی کو دادی سے بات چیت کرتے رہنے کی تلقین کرتا ہوں، دادی کا غم آپ نے ہلکا کرنا ہے۔
یاسین ملک نے کہا کہ اپنا مؤقف اور ضمیر کی آواز عدالت کے سامنے رکھ دی، باقی فیصلہ اللہ پر چھوڑتا ہوں-
سیاسی ماہرین کے مطابق یسین ملک کا ٹرائل مودی حکومت کی ایک معتبر کشمیری آواز کو سیاسی دباؤ سے خاموش کرنے کی ناکام کوشش ہے، یاسین ملک سمیت تمام کشمیری حریت پسند طویل قید اور بھارتی ریاستی جبر کے باوجود ثابت قدم رہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت آواز کو خاموش کر سکتا ہے مگر کشمیری نظریہ حریت کو دبا نہیں سکتا، اقوام متحدہ کو سیاسی قیدیوں کی رہائ کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
