ہومتازہ ترینآزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کیخلاف خاموش نہیں بیٹھیں گے، پلوشہ خان کا اعلان

آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کیخلاف خاموش نہیں بیٹھیں گے، پلوشہ خان کا اعلان

اسلام آباد(سب نیوز)رہنما پیپلزپارٹی اور سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کے خلاف خاموش نہیں بیٹھیں گے۔وفاقی دارالحکومت میں پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنماں پلوشہ خان، شہلا رضا اور شرمیلا فاروقی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں آزاد کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن)پر انتخابات میں بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ہمارے پاس تمام شواہد موجود ہیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن)کی جانب سے دھاندلی کی نشاندہی کی جارہی ہے اور اس معاملے پر خاموش نہیں رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومتی وزرا نے دوپہر 12 بجے ہی اپنی جیت کا اعلان کر دیا تھا جب کہ آزاد کشمیر میں مبینہ دھاندلی کرکے حکومت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، دھاندلی کے خلاف آواز اٹھانے پر مسلم لیگ (ن)کو تکلیف ہو رہی ہے۔
رہنما پیپلزپارٹی و سینیٹرنے کہا کہ آزاد کشمیر میں ہمیں صرف چھ ماہ تک حکومت ملی جب کہ وزرا کی جانب سے 12 نشستیں جیب میں ہونے کے بیان کی وجہ سے کشمیر میں آگ لگی، ان کے گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے پیپلزپارٹی کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے، جبکہ ان کا اصل نشانہ وفاقی حکومت ہے۔پلوشہ خان نے کا واضح کیا کہ شہبازشریف کو لانے والے یہ نہ بھولیں کہ صدرآصف علی زرداری ہیں، آج کل برسات کا موسم ہے جس میں موسمی مینڈک نکل کر صدر کے استعفی کی بات کر رہے ہیں۔
شہلا رضا کا کہنا تھا کہ الیکشن کوئی بھی ہو، انتہائی اہم ہوتا ہے کیونکہ عوام اپنے ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں، اگر کہا جاتا ہے کہ ووٹ کو عزت دو تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ دھاندلی کو باہر نکالا جائے، آج جس طرح ووٹ کو عزت مل رہی ہے، سب دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ آزاد کشمیر انتخابات میں 12 نشستیں مسلم لیگ (ن)والوں کی جیب میں تھیں، دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے پیپلزپارٹی کے پاس شواہد موجود ہیں اور کشمیر میں ہونے والی مبینہ بے ایمانیوں کا مسلم لیگ (ن)کو جواب دینا ہوگا۔
اس موقع پر رہنما پیپلزپارٹی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ مہاجر نشستیں جیب میں ہونے کا دعوی کیا گیا تھا اور وہ جیب سے ہی نکلیں، آزاد کشمیر میں دھاندلی کے ذریعے حکومت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں آئین، قانون اور انصاف بند کردیا گیا ہے اور وہاں مبینہ طور پر بندوق اٹھا کر گولی مار دی جاتی ہے جب کہ سندھ میں کسی کو گولی نہیں ماری جاتی بلکہ عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب پیپلزپارٹی رہنماوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف آواز اٹھانے کا سلسلہ جاری رہے گا اور اس معاملے پر خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔