ہومپاکستاناسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں بین الاقوامی ماہرین کی زیرِ نگرانی اے آئی ہیلتھ کیئر سرٹیفکیٹ پروگرام شروع

اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں بین الاقوامی ماہرین کی زیرِ نگرانی اے آئی ہیلتھ کیئر سرٹیفکیٹ پروگرام شروع

اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج نے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے اشتراک سے بین الاقوامی معیار کے مطابق کلینیکل آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہیلتھ کیئر سرٹیفکیٹ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کے طبی شعبے سے وابستہ طلبہ اور ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کو جدید طبی تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے انہیں مصنوعی ذہانت پر مبنی عالمی نظامِ صحت کے لیے تیار کرنا ہے۔

ایک ماہ پر مشتمل ویک اینڈ سرٹیفکیٹ پروگرام کے آغاز پر میڈیکل، ڈینٹل، نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے طلبہ، نوجوان ڈاکٹروں اور دیگر ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے پروگرام میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا کیونکہ جدید طبی خدمات میں مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتیں تیزی سے ناگزیر ہوتی جا رہی ہیں۔

افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالق تھے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے اوراسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج نے پاکستان میں طبی تعلیم کو جدید،خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک دور اندیش اور قابلِ تحسین قدم اٹھایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھرمیں طبی تعلیم تیزی سے مصنوعی ذہانت کی جانب بڑھ رہی ہے اور یہ اشتراک مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ طبی افرادی قوت کی تیاری کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پروگرام برطانیہ کی السٹر یونیورسٹی، بیلفاسٹ کے فیکلٹی اراکین نے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرعثمان ہادی کی سربراہی میں تیار کیا ہے۔ اس کا نصاب برطانیہ، امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے صحت کے نظام کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر یاسر خان نیازی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت صحت کے شعبے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی لا رہی ہے اور آنے والے دور کے طبی ماہرین کے لیے یہ ایک لازمی مہارت بن چکی ہے۔

یاسر خان نیازی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب صحت کے شعبے کا مستقبل نہیں بلکہ موجودہ حقیقت بن چکی ہے۔ آنے والے وقت میں قیادت وہی طبی ماہرین کریں گے جو اعلیٰ طبی مہارت کے ساتھ ڈیجیٹل صلاحیتوں اور مصنوعی ذہانت سے ہم آہنگ علم بھی رکھتے ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف ایک آغاز ہے۔ اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج مستقبل میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل میڈیسن اور دیگر جدید شعبوں میں عالمی معیار کے مزید سرٹیفکیٹ پروگرام متعارف کرائے گا، جبکہ بتدریج انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طبی تعلیم میں مصنوعی ذہانت کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ فارغ التحصیل طلبہ تیزی سے ٹیکنالوجی پر مبنی عالمی نظامِ صحت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق مصنوعی ذہانت صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، طبی فیصلوں کے معیار کو بہتر بنانے اور معیاری طبی سہولیات تک رسائی بڑھانے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے، بشرطیکہ اسے ذمہ دارانہ انداز میں بروئے کار لایا جائے۔ اسی تناظر میں یورپ، خصوصاً برطانیہ سمیت دنیا کے متعدد ترقی یافتہ ممالک مصنوعی ذہانت سے ہم آہنگ طبی افرادی قوت کی تیاری پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

توقع ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے شرکاء نہ صرف کلینیکل مصنوعی ذہانت کی عملی مہارتیں حاصل کریں گے بلکہ پاکستان میں ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور عالمی معیار کی طبی افرادی قوت کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔