اسلام آباد(سب نیوز) قومی احتساب بیورو (نیب) کے تربیتی مرکز پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (پاکا) نےنیب اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تفتیش کاروں اور پراسیکیوٹرز کے لیے مورخہ4 تا 5 اگست 2026 دو روزہ فکری مباحثے کا انعقاد کیا۔ نیب کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کی زیرِ رہنمائی پاکا کے ڈائریکٹر جنرل جناب غلام صفدر شاہ کے نے اس پروگرام کا افتتاح کیا جس کا محور بین الاقوامی معیار اور باہمی تعاون کے ذریعے بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت کو بڑھانا تھا۔
جامع نصاب کا مرکز ملکی کارروائیوں کو مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) کے معیاراور( یو این سی اے سی) کے رہنما اصولوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ اس میں جدید اثاثہ جات کی تلاش، فرانزک آلات، اور بین الاقوامی تعاون کے نیٹ ورکس جیسے انٹرپول اور گلوب ای نیٹ ورک کا احاطہ شامل تھا۔ اس تربیتی نششت کی قیادت ممتاز ماہرین نے کی ۔جن میں نیب کے ڈائریکٹر جنرل اسپیشل انویسٹی گیشن ڈویثرن جناب محمد طاہر ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیکٹا کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جناب شہزاد حسین شامل تھے۔
تربیتی نششت کے زیر بحث نکات میں متوازی مالیاتی تحقیقات، مستفید ہونے والی ملکیت کی شفافیت، اثاثوں کو ابتدائی طور پر منجمد کرنا، اور ایف ایم یو کی طرف سے سنبھالی جانے والی مشکوک ٹرانزکشن رپورٹس کے اہم تجزیاتی کردار پر زور دیا گیا۔
پروگرام کا اختتام اسناد کی تقسیم کے ساتھ ہوا، جہاں ڈی جی پاکا نے پاکستان کے سلامتی اور ریگولیٹری اداروں میں اعلیٰ پائے کی پیشہ ورانہ تربیت اور پائیدار ادارہ جاتی تعاون کے لیے اکیڈمی کے عزم کا اظہار کیا۔
