ہومتازہ ترینفراڈ کے جال میں قید زندگیاں

فراڈ کے جال میں قید زندگیاں

انسانی تجارت کے خاتمہ کا عالمی دن – 2026

اسلام آباد – ہر سال 30 جولائی کو دنیا بھر میں انسانی تجارت کے خاتمہ کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد سمگلنگ کا شکار افراد کی مشکلات اور مصائب کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور ان کے تحفظ اور معاونت کی عالمی کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ رواں سال یہ دن “فراڈ کے جال میں قید زندگیاں (Trapped Behind the Scam)” کے مرکزی پیغام کے تحت منایا جا رہا ہے جس کے ذریعے جبری جرائم کے لئے انسانی تجارت کے بڑھتے ہوئے خطرات کی جانب توجہ مبذول کرائی جا رہی ہے جن میں جرائم پیشہ نیٹ ورکس کمزور اور غیرمحفوظ افراد کو اپنے فریب کا شکار بناتے ہیں، اور انہیں زبردستی جرائم کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان جرائم میں آن لائن فراڈ کی کارروائیاں اور سائبر ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی دیگر مجرمانہ سرگرمیاں شامل ہیں، جن سے منظم جرائم پیشہ گروہ غیر قانونی طور پر بھاری رقوم کماتے ہیں۔
اس موقع کی مناسبت سے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)، اقوامِ متحدہ دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی)، انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم)، اقوامِ متحدہ ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر)، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او)، سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او)، انٹرنیشنل سنٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ(آئی سی ایم پی ڈی)، اور انٹرنیشنل ریٹرنز اینڈ ری انٹیگریشن اسسٹنس (آئی آر اے آر اے) کے اشتراک سے اسلام آباد میں منعقد کی گئی تقریب میں وفاقی وزارتوں، سرکاری محکموں، نفاذِ قانون اور فوجداری نظامِ انصاف کے اداروں، ترقیاتی شعبے اور سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندوں اور سفارت کاروں نے شرکت کی۔ ان تنظیموں کے نمائندوں کی طرف سے دئیے گئے پیغامات میں فوجداری نظامِ انصاف کے تحت کئے جانے والے اقدامات کو مستحکم بنانے، بچاؤ کی کوششوں میں بہتری لانے اور متاثرہ افراد کے تحفظ، اعانت اور انہیں معاشرے میں دوبارہ ضم کرنے کے لئے جامع معاونت یقینی بنانے کے لئے اجتماعی نوعیت کے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
وزارتِ سمندر پار پاکستانیز و ترقی ٔانسانی وسائل اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ کے سینئر عہدیداروں نے انسانی تجارت اور مہاجرین کی سمگلنگ کے خلاف اقدامات کو مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ محفوظ، منظم اور باقاعدہ مائیگریشن کو فروغ دینے کے لئے پاکستان کی مسلسل کوششوں پر روشنی ڈالی۔ اس سلسلے میں قابل ذکر کاوشوں میں وزارتِ سمندر پار پاکستانیز و ترقیٔ انسانی وسائل کی زیرِقیادت تیار کی گئی نیشنل ایمیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی کے علاوہ انسانی تجارت کے خاتمہ کے لئے تیار کیا گیا پاکستان کا پہلا پنج سالہ نیشنل ایکشن پلان (2026-2030) اور وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کی زیرِقیادت تیار کیا گیا مہاجرین کی سمگلنگ کے خاتمہ کا نیشنل ایکشن پلان (2026-2030) شامل ہیں۔
ان جرائم کی مسلسل بدلتی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے ایف آئی اے کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جرائم پیشہ تنظیموں کی غیرقانونی مالی اور آن لائن سرگرمیوں کا قلع قمع کرنے کے لئے ڈیجیٹل اور مالیاتی شعبوں کی تحقیقات کو مضبوط بنایا جائے گا اور ان لوگوں بالخصوص ان سہولت کاروں، اصل آرگنائزرز اور سرمایہ فراہم کرنے والے فنانسرز کا احتساب کیا جائے گا جو ان جرائم کا ذریعہ بنتے ہیں، انہیں منظم کرتے ہیں اور ان سے منافع کماتے ہیں۔
تقریب کی دیگر سرگرمیوں میں “ڈیجیٹل دور میں جبری جرائم کے لئے سمگلنگ” کے موضوع پر ماہرین کے ایک پینل کی گفتگو بھی شامل تھی جس میں نفاذِ قانون، قانون اور تحفظ کے شعبوں اور سول سوسائٹی کے ماہرین نے آپس میں تبادلہ خیالات کیا اور جبری جرائم کے لئے سمگلنگ سے نمٹنے کے طریقوں اور سائبر کرائم کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے تعلق پر تفصیلی گفتگو کی۔
تقریب کے اختتام پر تمام متعلقہ فریقوں نے اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ جبری جرائم کے لئے سمگلنگ کی روک تھام کے لئے پورے حکومتی نظام اور پورے معاشرے پر مبنی سوچ کے تحت کام کیا جائے گا جو اپنی تر تمام سرگرمیوں میں متاثرہ افراد کو مرکزی حیثیت دیتی ہے جس میں نہ صرف متاثرہ افراد کی نشاندہی، ان کے تحفظ اور عدم سزا کے اصول پر عملدرآمد کو ترجیح دی جاتی ہے بلکہ آبادی کے کمزور اور غیرمحفوظ طبقات کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کو مستحکم بنایا جاتا ہے اور بین الاقوامی منظم جرائم کی بدلتی نوعیت کے مطابق کام کیا جاتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔