ہومپاکستانپاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی کی جانب سے انسدادِ منی لانڈرنگ اور مالیاتی تحقیقاتی حکمتِ عملی پر ضلعی عدلیہ کیلئے تیسری بریفنگ کا انعقاد

پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی کی جانب سے انسدادِ منی لانڈرنگ اور مالیاتی تحقیقاتی حکمتِ عملی پر ضلعی عدلیہ کیلئے تیسری بریفنگ کا انعقاد

اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (پی اے سی اے ) نے اسلام آباد ضلعی عدلیہ کے ججوں کے لیے تیسری مسلسل اورینٹیشن ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ یہ نشست قانونی ماہرین اور عدالتی افسران کے لیے ایک اعلی سطحی پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آئی، جس کا مقصد انسدادِ منی لانڈرنگ کے پیچیدہ منظرنامے سے نمٹنے کے لیے باہمی کوششوں کو ہم آہنگ کرنا تھا۔یہ پروگرام اپنی سابقہ نشستوں کی طرح اعلی قیادت کی موجودگی میں منعقد ہوا، جو مالیاتی جرائم سے متعلق مقدمات میں عدالتی صلاحیتوں کوبڑھانے کے لیے ایک مضبوط، پائیدار اور مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

قومی احتساب بیوروکے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ)نذیر احمد نے نشست کا آغاز کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ منی لانڈرنگ پاکستان کی اقتصادی سالمیت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے مالیاتی اداروں، تفتیش کاروں اور عدالتوں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ نیب جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے پیچیدہ مالیاتی جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج، مسٹر جسٹس انعام امین منہاس نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اپنے اختتامی خطاب میں انہوں نے اس اہم تربیتی نشست کے دوبارہ انعقاد پر (پی اے سی اے )کو سراہا اور کہا کہ جدید مالیاتی قوانین کی درست تفہیم اور موثر نفاذ کے لیے عدلیہ میں مسلسل علمی تبادلہ اور پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ ناگزیر ہے۔نیب کے ڈپٹی چیئرمین مسٹر سہیل ناصر نے انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے مجرمانہ سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے اثاثوں کو ضبط اور قرق کرنے کے عدالتی اختیارات پر رہنمائی فراہم کی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے شیل کمپنیوں اور کرپٹو کرنسی کے غلط استعمال جیسی جدید منی لانڈرنگ کی اقسام پر بھی روشنی ڈالی۔اسپیشل انویسٹی گیشن ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل مسٹر محمد طاہر نے عالمی معیارات پر توجہ مرکوز کی اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسدادِ بدعنوانی کے کردار پر بات کی۔

انہوں نے باہمی قانونی معاونت کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر اثاثوں کی بازیابی کے طریق کار اور اس کی عملی اہمیت کو بھی واضح کیا۔فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی ماسٹر ٹرینر محترمہ نور السحر نے گو اے ایم ایل پورٹل کے اہم کردار اور مالیاتی جرائم کو روکنے میں مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس کی اہمیت پر روشنی ڈالی، تاکہ کامیاب قانونی چارہ جوئی کے لیے ٹھوس ثبوت فراہم کیے جا سکیں۔تقریب کا اختتام شریک جج صاحبان میں اسناد کی تقسیم کے ساتھ ہوا ، جس میں مالیاتی انصاف کے اعلی معیارات کے فروغ کے لیے ان کے عزم اور پیشہ ورانہ وابستگی کو سراہا گیا۔ تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی، مسٹر جسٹس انعام امین منہاس، کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی، جس کے ساتھ اس اہم مشترکہ اقدام کا تیسرا کامیاب سیشن اختتام پذیر ہوا۔صلاحیت سازی پر اس مسلسل توجہ کے ذریعے، پی اے سی اے عدلیہ کو ایسے آلات سے لیس کر رہا ہے جو شواہد پر مبنی اور مضبوط عدالتی فیصلوں کے لیے ضروری ہیں، تاکہ پاکستان کے مالیاتی نظام کو غیر قانونی سرگرمیوں سے موثر طور پر محفوظ رکھا جا سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔