Wednesday, June 24, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومبریکنگ نیوزفیفا ورلڈ کپ 2026: ابتدائی 2 رانڈز کی وہ ٹیمیں جن کا ٹورنامنٹ میں سفر تمام ہوا

فیفا ورلڈ کپ 2026: ابتدائی 2 رانڈز کی وہ ٹیمیں جن کا ٹورنامنٹ میں سفر تمام ہوا

نیویارک (آئی پی ایس )فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے کے ابتدائی 2 رانڈز مکمل ہونے کے بعد 5 ممالک کی ٹورنامنٹ سے رخصتی یقینی ہو گئی ہے۔ٹورنامنٹ میں شامل 48 ٹیموں پر مشتمل تاریخ کے سب سے بڑے عالمی مقابلے میں گروپ مرحلے کے اختتام تک مجموعی طور پر 16 ٹیمیں باہر ہو جائیں گی، جبکہ باقی 32 ٹیمیں اگلے مرحلے (رانڈ آف 32) میں جگہ بنائیں گی۔

وہ 5 ٹیمیں جو اپنے ابتدائی دونوں میچ ہار کر اگلے مرحلے کی رسائی سے محروم ہو چکی ہیں، ان میں ترکیہ، اردن، ہیٹی، تیونس اور پاناما شامل ہیں۔گروپ سی سے کونکاکاف (جزائر کیریبین) کے ملک ہیٹی کا سفر اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ سال 1974 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے والی ہیٹی کی ٹیم کو اسکاٹ لینڈ اور برازیل کے خلاف مسلسل شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب، یورپ کی نمائندگی کرنے والی ٹیموں میں سے ترکیہ پہلی ٹیم بن گئی ہے جس کی رخصتی یقینی ہو چکی ہے، ترکیہ کو اپنے ابتدائی دونوں میچوں میں آسٹریلیا اور پیراگوئے کے ہاتھوں غیر متوقع ہار کا سامنا کرنا پڑا۔افریقی براعظم کی بات کی جائے تو وہاں کی ٹیموں میں سے اب تک تیونس گروپ مرحلے سے باہر ہونے والی واحد ٹیم ہے، جسے سویڈن اور جاپان کے خلاف 4 ، 4 گول کے بڑے مارجن سے عبرتناک شکست ہوئی۔

اسی طرح براعظم ایشیا کی نمائندگی کرنے والی اردن کی ٹیم بھی ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھنے میں ناکام رہی اور ٹورنامنٹ سے باہر ہونے والی پہلی ایشیائی ٹیم بن گئی۔آخر میں گروپ ایل سے کونکاکاف (وسطی امریکا) کی ٹیم پاناما کی امیدیں بھی دم توڑ گئیں، جسے گھانا اور کروشیا کے خلاف ایک، صفر کے یکساں مارجن سے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔

گروپ سی سے ہیٹی کی ٹیم کا سفر اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ ہیٹی کو اسکاٹ لینڈ اور برازیل کے خلاف مسلسل شکست کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری جانب یورپ کی طاقتور ٹیموں میں سے ترکیہ پہلی ٹیم بن گئی ہے جس کی رخصتی طے ہو چکی ہے، ترکیہ کو اپنے ابتدائی دونوں میچوں میں آسٹریلیا اور پیراگوئے کے ہاتھوں غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس ورلڈ کپ کے فارمیٹ میں ایک اہم اور اسٹرٹیجک تبدیلی کی گئی ہے جس کے تحت 2 ٹیموں کے برابر پوائنٹس حاصل کرنے کی صورت میں اب گول فرق کے بجائے باہمی مقابلوں کا ریکارڈ فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔اس قانون نے گروپ مرحلے کی دوڑ کو مزید سنسنی خیز اور دلچسپ بنا دیا ہے کیونکہ اب بڑی ٹیمیں بھی محض گولز کی بنیاد پر اگلے مرحلے میں نہیں جا سکیں گی۔ گروپ مرحلے کے آخری میچوں کے بعد مزید 11 ٹیموں کی قسمت کا فیصلہ ہوگا جس کے بعد اگلے مرحلے میں پہنچنے والی ٹیموں کی تصویر مکمل طور پر واضح ہو جائے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔