Tuesday, June 16, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومپاکستانوزیرِ خزانہ اور برطانوی وزیر کے درمیان علاقائی صورتحال، اقتصادی منظرنامے اور پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے پر تبادلہ خیال

وزیرِ خزانہ اور برطانوی وزیر کے درمیان علاقائی صورتحال، اقتصادی منظرنامے اور پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے پر تبادلہ خیال

اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے برطانیہ کے پارلیمانی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے مشرقِ وسطی، افغانستان اور پاکستان ، ہیمش فالکنر، ایم پی سے آج فنانس ڈویژن میں ملاقات کی۔مسٹر ہیمش فالکنر کے ہمراہ ملاقات میں پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر محترمہ جین میریٹ کے علاوہ ایلس ڈفی، منسٹریل پرائیویٹ سیکریٹری اور برطانوی ہائی کمیشن کے سیکنڈ سیکریٹری (معاشی امور)سربجیت سنگھ کے علاوہ فنانس ڈویژن کے اعلی حکام موجود تھے۔ملاقات میں علاقائی صورتحال، پاکستان کے معاشی منظرنامے، جاری ساختی اصلاحات، مالیاتی ترجیحات، ادارہ جاتی جدیدکاری اور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے برطانوی وفد کو حکومت کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے اور وفاقی بجٹ 2026-27 میں متعین اہم ترجیحات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت معاشی استحکام برقرار رکھنے، اقتصادی بحالی کے عمل کو آگے بڑھانے، ساختی اصلاحات میں تیزی لانے اور جامع و پائیدار ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔گفتگو کے دوران وزیرِ خزانہ نے حالیہ علاقائی پیش رفت کا بھی ذکر کیا، جن میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مسلسل مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتا رہا ہے اور پاکستان نے ابتدائی مرحلے سے ہی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کیا۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ خطے میں طویل عدم استحکام اقتصادی اعتماد، توانائی کی منڈیوں، سپلائی چین اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی ترقی کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اپنی اقتصادی منصوبہ بندی اور مالیاتی تخمینوں میں ممکنہ بیرونی اور جغرافیائی سیاسی خطرات کو مدنظر رکھا، جن میں علاقائی غیر یقینی صورتحال کے ممکنہ بالواسطہ معاشی اثرات بھی شامل تھے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے کی بہتر ہو رہی صورت حال سے معاشی استحکام، سرمایہ کاری، تجارت اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کے لیے زیادہ سازگار ماحول فراہم پیدا ہو گا ۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے برطانوی وفد کو پاکستان میں جاری مالیاتی اور ادارہ جاتی اصلاحات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے محصولات میں بہتری، ٹیکس نظام میں تعمیل کے فروغ، لیکیجز کے خاتمے اور ٹیکنالوجی، ڈیٹا انضمام، مرکزی پراسیسنگ اور ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے ٹیکس نظام کو جدید بنانے کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اصلاحاتی ایجنڈے کا مقصد صرف محصولات میں اضافہ نہیں بلکہ شفافیت کو فروغ دینا، صوابدیدی مداخلت میں کمی لانا اور شہریوں، کاروباری اداروں اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔ملاقات میں حکومت کے وسیع تر ڈھانچہ جاتی اصلاحاتی پروگرام پر بھی گفتگو ہوئی، جس میں نجکاری، سرکاری اداروں کی رائٹ سائزنگ، سرکاری اخراجات کی استعداد میں بہتری، ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی اور ہدفی سماجی تحفظ کے نظام کو وسعت دینے جیسے اقدامات شامل تھے۔
وزیرِ خزانہ نے ٹیکنالوجی کی مدد سے خدمات کی فراہمی اور سرکاری وسائل کے مثر استعمال کے حوالے سے پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔برطانوی وزیر ہیمش فالکنر نے اقتصادی اصلاحات کے لیے حکومت کے عزم کو سراہا اور پاکستان کے جاری اصلاحاتی و تبدیلی کے ایجنڈے کی وسعت اور سنجیدگی کو تسلیم کیا۔ انہوں نے اصلاحات کے تسلسل، ادارہ جاتی بہتری اور اقتصادی مسابقت اور بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے باہمی اقتصادی مفادات کے شعبوں میں برطانیہ کی جانب سے مسلسل تعاون اور روابط جاری رکھنے میں دلچسپی کا بھی اعادہ کیا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب نے پائیدار اقتصادی ترقی، ادارہ جاتی بہتری اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان قریبی تعاون اور روابط کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔