Friday, June 12, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومپاکستانبجٹ اعداد وشمار کا ہیر پھیر اور ایک بینکر کا بنایا ہو ا بجٹ ہے،صدر مرکزی تنظیم تاجران کاشف چوہدری

بجٹ اعداد وشمار کا ہیر پھیر اور ایک بینکر کا بنایا ہو ا بجٹ ہے،صدر مرکزی تنظیم تاجران کاشف چوہدری

اسلام آباد (سب نیوز)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے بجٹ2026-27کو اعداد وشمار کا ہیر پھیر اور ایک بینکر کا بنایا ہو ا بجٹ قرار دیتے ہو ئے کہا ہے کہ بجٹ میں غربت،بے روزگاری اور مہنگائی کم کر نے کے کو ئی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں اور نہ ہی حکو متی اخر جا ت میں کمی کی گئی ہے،جبکہ مہنگائی کی شر ح سے ملازمیں کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ بھی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے، ٹیکس ہدف بھی غیر حقیقی ہے گذشتہ سال 13 ہزار ارب روپے جمع نہیں ہو سکا تو اس سال دو ہزار ارب کیسے جمع کیا جا سکے گا

عوام کا خون نچورنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا گیا ہے، جس سے پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو گی اور ملک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا،غریب ادمی کی زندگی متاثر ہوگی اور صنعتوں کی پیداواری لاگت بھی بڑھا جا ئے گی، انھوں نے کہا آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کو ختم یا ازسر نو کیا جا تا مگر بجٹ میں اس حو الے سے کچھ بھی نہیں ہے، جس کا مطلب ہے مہنگا پیٹرول اور مہنگی بجلی کی وجہ سے پر یشان حال عوام کو کو ئی ریلیف نہیں ملے گا، بجٹ میں عوام اور کاروباری طبقے پر ٹیکسز کا بو جھ بڑھا دیا گیا ہے،صنعتوں کے پہیے کو چلا نے کے لیے کو ئی اقدامات نہیں کیے گے ہیں جبکہ ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے نہ تو زرا عت پر کوئی توجہ دی گئی ہے نہ زراعت اور کسان کی بہتری کے لیے کو ئی پیکج دیا گیا ہے اور نہ ہی صنعتوں کا پہیہ چلانے کے لیے کو ئی اقدام کیا گیا ہے، خام مال کو بھی سستا نہیں کیا گیا اور نہ ٹیکسزکے نظام کو آسان اور منصفانہ بنایا گیا ہے،اور صنعتوں پر سے بے جا ٹیکسز کا خاتمہ کیا جا نا چاہیے تھا، بجٹ میں ریگولریٹی اتھارٹیز کو درست کرنے کے حوالے سے کوئی عملی اقدام نظر نہیں آتا ان حالات میں پھر ملک میں روزگار کیسے پیدا ہو گا

محمد کاشف چوہدری نے کہا بجٹ میں عام تاجر پر بھی ٹیکسز کا بوجھ بڑھا دیا گیا ہے، بجلی اور پٹرول کو ایک بار پھر مہنگا کر نے کی بات کی جا رہی ہے،پہلے ہی مارکیٹوں میں ویرانیاں ہیں 12 کروڑ سے زائد افراد غر بت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں، لوگوں کی قیمت خرید ختم ہو کر رہ گئی ہے، اسے میں تاجر اپنی دوکانوں کے کرائے اور خر چے کیسے پورے کریں گے، اتنے بڑے پیمانے پر ٹیکس اکھٹا کر نے بعد بھی اگر حکومت عام آد می کی تعلیم اور صحت پر پیسہ خرچ کر نے کی بجا ئے،پیسہ صرف سود کی ادائیگی اور حکو متی اخراجات پر خر چ کیا جا ئے گا توعام آدمی حکومت اور اس کے اقدامات پر کیسے یقین کر ے گا، کاشف چوہدری نے کہا حالیہ بجٹ ایک روایتی بجٹ ہے جس میں کو ئی امید کی کر ن نظر نہیں آتی جس سے پاکستان کی معیشت بہتر ہو سکے جو کے پہلے ہی آئی سی یو میں ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔