اسلام آباد(آئی پی ایس) اسلام آباد میں سرکاری ملازمین نے شاہراہِ دستور پر احتجاج کیا ہے، پارلیمنٹ جانے کی کوشش میں پولیس سے مزاحمت میں 1 شخص زخمی ہو گیا۔
اسلام آباد پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا، سرکاری محکموں کے ملازمین پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر موجود ہیں۔
چیف آرگنائزر اگیگا رحمٰن باجوہ کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج ہو گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین مطالبات شامل کیے جائیں، 10 مارچ 2025ء کے معاہدے کی تمام شقوں پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
رحمٰن باجوہ نے مطالبہ کیا کہ تمام ایڈہاک ریلیف الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کر کے پے اسکیل 2026ء متعارف کرایا جائے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 100 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2026ء شامل کیا جائے، 50 ہزار روپے سے کم تنخواہ لینے والے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔
ان کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کنوینس، میڈیکل اور ہاؤس رینٹ الاؤنسز میں 200 فیصد اضافہ کیا جائے، پینشن اصلاحات واپس لی جائیں، موجودہ پینشن نظام برقرار رکھا جائے، تنخواہوں میں تفاوت کم کرنے کے لیے مزید 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دیا جائے، ٹیچرز اور ریسرچرز کے لیے 25 فیصد ٹیکس سلیب ختم کرنے اور کٹی ہوئی رقم واپس کی جائے۔
رحمٰن باجوہ نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کی بھرتیاں بحال کی جائیں، نج کاری کی فہرست میں شامل اداروں کے لیے مشترکہ کمیٹیاں بنائی جائیں، سرکاری ملازمین کی ماہانہ اجرت کم از کم 50 ہزار روپے مقرر کی جائے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کے احتجاج کے باعث شاہراہِ دستور کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ٹریفک پولیس کے مطابق شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ریڈ زون کی طرف غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور متبادل راستے اختیار کریں۔ بری امام کے راستے سے گزر کر شہری مارگلہ روڈ کی جانب اپنی آمد و رفت جاری رکھ سکتے ہیں۔ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پیشگی منصوبہ بندی کریں اور ہدایات پر عمل کریں۔مزید معلومات اور تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے اسلام آباد پولیس کے سوشل میڈیا پیجز اور ایف ایم 92.4 سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

