اطالوی اسکالرز کی ایک مشترکہ کتاب “چین کا عالمی قیادت کا خاکہ ” یورپی علمی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔ یہ کوئی سیاسی پمفلٹ یا تشہیری مواد نہیں، بلکہ ایک ایسا علمی کام ہے جو چین کے عالمی نظم و نسق کے نظریات کو جامع طور پر سمجھنے اور مغربی نظریاتی مشکلات کو از سر نو سمجھنے کی کوشش ہے ۔ ٹرینٹو یونیورسٹی اور پیرس انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹیکل اسٹڈیز سمیت دیگر اداروں کے سیمینارز میں اس کا بارہا ذکر ہوتا ہے اور وجہ صرف اتنی ہے کہ یہ جانے اور سمجھنے کی” علمی پیاس “کو بجھاتی۔طویل عرصے سے مغربی بین الاقوامی تعلقات کا نظریہ دنیا کو طاقت کے اکھاڑے میں جمع کرنے اور بین الاقوامی نظام کو تسلط کے ذریعے تبدیل کرنے کا عادی رہا ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ علاقائی تنازعات کو فوجی مداخلت سے “منظم” کرنے کی کوشش کی گئی ، اور تہذیبی اختلافات کو “جمہوریت بمقابلہ آمریت” کی شکل دے دی گئی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جتنا کنڑول کرنے کی کوشش کی گئی ، معاملات اتنے ہی بگڑتے گئے ، اور جتنا تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ،
اتنا ہی تصادم بڑھتا گیا۔”چین کے عالمی قیادت کے خاکے “ کی اہمیت یہ ہے کہ یہ پرانے مغربی فریم ورک میں قید رہنے کے بجائے اپنی جانب سے پیش کردہ ” گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو “، ” گلوبل ڈولپمنٹ انیشی ایٹو ” اور ” گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو ” کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ کتاب میں اٹھائے گئے نکات جیسے “ترقی کو ترجیح”، “سلامتی کا غیر قابل تقسیم ہونا” اور “اتحاد مع اختلاف” محض نعروں کا ڈھیر نہیں، بلکہ زیرو سم منطق سے نکلنے اور کثر الجہتی کی ازسرنو تعریف ہیں۔ جیسا کہ پیرس انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹیکل اسٹڈیز کے اسکالرز نے کہا، یہ مغرب کو چین کی سفارتی اور حکمرانی کے نظریات کو سمجھنے کے لیے ایک نایاب دریچہ فراہم کرتا ہے۔ یہ “چین کی تعریف” نہیں، بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ مغرب کا یہ نسخہ اب اس پیچیدہ دنیا کی وضاحت کے لیے ناکافی ہے۔
زیادہ علامتی بات فرانسس فوکویاما کی “نظرِ ثانی ” ہے۔ وہی امریکی مفکر جنہوں نے “تاریخ کے اختتام” کا نظریہ پیش کیا تھا، اب تسلیم کرتے ہیں کہ اگر چین اسی رفتار سے ترقی کرتا رہا تو چین کے بارے میں ان کی 40 سال پرانی پیش گوئیاں غلط ثابت ہو سکتی ہیں۔ دو ماہ قبل بھی انہوں نے کہا تھا کہ “چینیوں نے ایک نہایت شاندار ماڈل تیار کیا ہے ” اور یہ کہ یہ ماڈل مغربی جمہوریت کا ایک حقیقی متبادل بن سکتا ہے۔اگرچہ فوکویاما مکمل طور پر اپنی پرانی سوچ سے نہیں ہٹے اور وہ اب بھی لبرل جمہوریت کو ایک مثالی ہدف سمجھتے ہیں ۔ چین کے ماڈل کے لیے 50 سال کا “مشاہداتی وقفہ ” رکھتے ہیں ، اور ان کے اندر مغربی مرکزیت کا بنیادی رنگ بدستور موجود ہے۔ مگر یہی غیر مکمل تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ حتیٰ کہ مغربی نظریاتی دفاع کرنے والے بھی حقیقت کے دباؤ میں چین کے ماڈل کی افادیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ یہ کوئی انوکھی مثال نہیں۔ مشہور کتاب ” دی ورلڈ از فلیٹ” (The World is Flat) کے مصنف تھامس فریڈمین کا کہنا تھا کہ “چین میں مستقبل نظر آتا ہے”، جبکہ وائٹ ہاؤس کے سابق سینئر ماہر معاشیات نے تسلیم کیا کہ چینی نظام کی “تبدیلی لانے کی فوری صلاحیت انتہائی اہم ہے”۔ مغربی دانشور وں کی اشرافیہ ایک تاخیر سے آنے والے “آنکھیں کھول کر دنیا دیکھنے” کے عمل سے گزر رہی ہے۔اگر اسکالرز کی تصحیح میں ہچکچاہٹ ہے، تو عوامی رائے کا رخ مزید واضح ہے۔
امریکی ادارے گیلپ کی رواں سال اپریل میں شائع ہونے والی ایک عالمی سروے رپورٹ ، جس میں 130 سے زائد ممالک کے تقریباً 1.3 لاکھ افراد شامل تھے، کے مطابق چین کی عالمی قیادت کو عالمی سطح پر 36 فیصد حمایت حاصل ہے، جو پہلی بار امریکا کے 31 فیصد سے 5 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل کر چکی ہے۔ یہ گزشتہ 20 برسوں میں چین کی امریکا پر سب سے بڑی برتری ہے۔ یہ “اعداد و شمار کی اتفاقی صورتحال” نہیں، بلکہ عالمی ادراک کی ایک ساختی منتقلی ہے۔اسی دوران، عالمی سوشل میڈیا پر “چائنا ٹریول”، “بیکمنگ چائنیز” اور “چائنامیکسنگ” جیسے ہیش ٹیگز نوجوانوں میں مقبول ہو رہے ہیں۔ جب مغربی عوام کسی دوسرے طرز زندگی کو غور سے دیکھنا اور اس سے رشک کرنا شروع کر دیں، تو سمجھ لیجیے کہ نظریاتی برف پگھل رہی ہے۔اس سب کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا اب ‘ایک ہی درست جواب ” سے اکتا چکی ہے ۔ چین نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس کے پاس عالمگیر نسخہ موجود ہے، بلکہ اس نے “انسانی ہم نصیب معاشرے ” کے تصور کے ذریعے مغرب کی ترقیاتی گفتگو پر اجارہ داری کو توڑا ہے۔ چینی ماڈل کا مطلب کسی کی جگہ لینا نہیں، بلکہ یہ ثابت کرنا ہے کہ جدیدیت کا مطلب مغربیت نہیں، اور حکمرانی کی افادیت مختلف نظاموں اور ثقافتی زمینوں سے بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ “گلوبل ساؤتھ” کے لیے ایک تاخیر سے ملنے والی فکری آزادی ہے جو طویل عرصے سے “مغربی مرکزیت” کی زد میں رہے ہیں ۔وہ اب بالآخر بلا جھجھک اپنے راستے تلاش کر سکتے ہیں، بغیر اس احساسِ کمتری کے کہ انہیں مغرب جیسا ہونا ضروری ہے۔اطالوی اسکالرز کی کتاب سے لے کر فوکویاما کے نظریاتی پیچ و تاب تک، اور گیلپ کے اعداد و شمار سے لے کر سوشل میڈیا کے ہیش ٹیگز تک ، چین کے بارے میں مغرب کا دوبارہ جائزہ لینا اب کنارے سے مرکز کی طرف اور ہچکچاہٹ سے تسلیم کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ “مشرق کی طرف دیکھو” کی کوئی رومانوی تحریک نہیں، بلکہ حقیقت پسندی پر مبنی ادراک کی تجدید ہے۔ دنیا کو نئی سلطنت نہیں چاہیے اور نہ ہی نیا عقیدہ، اسے مزید آپشنز، باہمی رواداری اور مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں چین کوئی حتمی جواب فراہم نہیں کر رہا، بلکہ ایک امکان پیش کر رہا ہے۔ ایک غیر یقینی دور میں انسانیت مختلف راستوں کے ذریعے بھی مشترکہ مستقبل کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

