اسلام آباد(سب نیوز) پاکستان میں رومانیہ کے سفارت خانے نے دوطرفہ ثقافتی تعلقات کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے قومی کتب خانہ پاکستان، اسلام آباد میں “رومانیہ بُک شیلف” کا افتتاح کر دیا۔
افتتاحی تقریب رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوئنیسکو کے قومی کتب خانے کے سرکاری دورے کے موقع پر منعقد ہوئی، جہاں انہوں نے رومانیہ کی کتب کا ایک مجموعہ قومی کتب خانے کے ڈائریکٹر جنرل محمد علی شہزاد مظفر اور ان کی ٹیم کے حوالے کیا۔
یہ کتب رومانیہ کے کلچرل انسٹی ٹیوٹ پبلشنگ ہاؤس کی جانب سے شائع کی گئی ہیں اور ان میں تاریخ، ادب، فنونِ لطیفہ اور ثقافتی ورثے سمیت مختلف موضوعات پر مبنی کتابیں شامل ہیں۔ یہ کتب پاکستانی قارئین کو رومانیہ کی علمی روایت اور متحرک ثقافتی زندگی سے براہِ راست آگاہی فراہم کریں گی۔
اس موقع پر رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوئنیسکو نے کہا:
“کتب خانے لوگوں کو آپس میں جوڑتے ہیں، شناخت کو محفوظ رکھتے ہیں اور باہمی فہم و ادراک کے پل تعمیر کرتے ہیں۔ قومی کتب خانہ پاکستان میں قائم رومانیہ بُک شیلف محض کتابوں کا مجموعہ نہیں بلکہ رومانیہ کی روح، تخلیقی صلاحیتوں اور علمی ورثے کو دریافت کرنے کی ایک کھلی دعوت ہے۔ تعلیم، ثقافت اور علم کے تبادلے کے شعبوں میں تعاون کا فروغ رومانیہ اور پاکستان کے تعلقات کا ایک بنیادی ستون ہے۔”
دورے کے دوران سفیر رومانیہ اور ڈائریکٹر جنرل محمد علی شہزاد مظفر کے درمیان قومی کتب خانہ پاکستان اور قومی کتب خانہ رومانیہ کے مابین مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مجوزہ معاہدہ دونوں اداروں کے درمیان طویل المدتی تعاون کے لیے ایک باضابطہ فریم ورک فراہم کرے گا، جس کے تحت اشاعتی مواد، مہارتوں اور مشترکہ ثقافتی سرگرمیوں کا تبادلہ ممکن ہو سکے گا۔
افتتاحی تقریب میں رومانیہ کے سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن ایڈورڈ پریڈا، پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) میں اوپیرا کورسز کی کوآرڈینیٹر اور معروف رومانیہ سوپرانو گلوکارہ جارجیانا کوستیا-گلوگا، قومی اسمبلی کی رکن اور ینگ پارلیمنٹیرین فورم (YPF) کی صدر سیدہ نوشین افتخار بھی شریک تھیں۔
رومانیہ بُک شیلف کا قیام اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ رومانیہ اور پاکستان ثقافت اور تعلیم کے ذریعے عوامی سطح پر روابط کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تفہیم کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ اسلام آباد میں رومانیہ کا سفارت خانہ آنے والے برسوں میں اس شراکت داری کو مزید وسعت دینے کا خواہا
