تہران (آئی پی ایس )ایران نے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت کی راہ میں واشنگٹن کے متضاد اور بار بار تبدیل ہونے والے موقف کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکام کے مختلف بیانات مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران اپنے قانونی حقوق، خصوصا پرامن جوہری افزودگی کے حق کے اعتراف کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اتوار کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ پاکستانی ثالثوں کے ذریعے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کا سب سے بڑا مسئلہ اس کے مسلسل بدلتے موقف، اہداف میں تبدیلی اور مختلف حکام کے متضاد بیانات ہیں، جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔اسماعیل بقائی کے مطابق مذاکرات میں کئی اختلافی نکات موجود ہیں تاہم بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ امریکا کو ایران کے حقوق تسلیم کرنا ہوں گے، جن میں بین الاقوامی عدم پھیلا ومعاہدے کے تحت پرامن جوہری افزودگی کا حق بھی شامل ہے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کے معاملے پر بھی امریکا کسی قسم کی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ بیرون ملک بینکوں میں منجمد اربوں ڈالر کے ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں اور انہیں ایرانی عوام کے لیے دستیاب بنایا جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنی چاہئیں اور منجمد اثاثوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
دوسری جانب سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی حکام ایرانی اثاثوں کے استعمال سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کر رہے ہیں، جن میں مستقبل میں ایرانی حملوں سے متاثر ہونے والے خلیجی ممالک کی تعمیر نو اور ماضی میں ہونے والے نقصانات کی مرمت کے لیے فنڈز کے استعمال کا امکان بھی شامل ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکا پر اپریل میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کا احترام نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی اقدامات کے باعث خطے کی صورت حال انتہائی کشیدہ اور خطرناک ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی حملے کا پوری قوت کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ خلیجی خطے میں ایرانی خطرات کے خلاف دفاع کے لیے تیار ہے اور ہفتے کی شب جہاز رانی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے مزید دو ایرانی ڈرونز مار گرائے گئے۔

