اسلام آباد:(آئی پی ایس) چیئرمین اوگرا کا اضافی چارج دینے کا وفاقی حکومت کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں نبیل احمد اعوان کو اوگرا چیئرمین کا اضافی چارج دینے کا فیصلہ چیلنج کردیا گیا ہے۔ وکیل منیر احمد نے وفاقی حکومت کی جانب سے اوگرا چیئرمین کا اضافی چارج دینے کے خلاف باضابطہ درخواست دائر کردی ہے۔
درخواست میں وفاق پاکستان، سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے ۔ آئینی درخواست میں اوگرا اور وفاقی سیکرٹری نبیل احمد اعوان کو بھی فریق بنایا گیا ہے ۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے 8 اپریل 2026 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ عدالت اوگرا چیئرمین کی تعیناتی کے عبوری نوٹیفکیشن کو معطل کرے اور باقاعدہ رولز کے تحت شفاف بھرتی کا حکم دے۔
درخواست میں مؤقف اختیار ک یا گیا ہے کہ نبیل احمد اعوان کو 3 ماہ یا باقاعدہ چیئرمین کی تعیناتی تک کے لیے اوگرا کا اضافی چارج دیا گیا ہے ۔ حاضر سروس وفاقی سیکرٹری کو اوگرا کا سربراہ بنانا مفادات کا واضح ٹکراؤ ہے ۔ نبیل احمد اعوان بطور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ خود سینئر وفاقی تعیناتیوں اور سمریوں کی نگرانی کرتے ہیں،جو اوگرا کی خودمختاری کے خلاف ہے ۔
عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اوگرا آرڈیننس 2002 کے تحت اتھارٹی کو ایک آزاد، خودمختار اور ایگزیکٹو کے اثر و رسوخ سے پاک ریگولیٹر ہونا چاہیے ۔ اضافی چارج کا یہ انتظام کوئی شخص اپنے ہی مقدمے میں جج نہیں ہو سکتا کے قانونی اصول کی خلاف ورزی ہے ۔ نوٹیفکیشن کے اجرا سے قبل کوئی عوامی اشتہار، شفاف بھرتی کا عمل کا طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا ۔
درخواست گزار کے مطابق مستقل چیئرمین کی اسامی اچانک خالی نہیں ہوئی تھی۔ حکومت کے پاس شفاف بھرتی کا عمل شروع کرنے کے لیے کافی وقت موجود تھا ۔ درخواست گزار نے پہنچنے سے پہلے 20 اپریل اور 6 مئی 2026 کو متعلقہ حکام کو قانونی نوٹس بھی بھجوائے تھے ۔ اوگرا چیئرمین کی تعیناتی کے لیے امیدوار کا قانون، بزنس، انجینئرنگ، فنانس یا پٹرولیم ٹیکنالوجی میں 20 سالہ متعلقہ تجربہ ہونا لازمی ہے ۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سابقہ چیئرمین اوگرا کو 2025 میں دی گئی ایک سالہ توسیع 22 فروری 2026 کو ختم ہو چکی ہے ۔ کیبنٹ ڈویژن نے جنوری 2026 میں نئے چیئرمین کی تعیناتی کا عمل شروع کیا تھا لیکن اسے ادھورا چھوڑ کر عبوری چارج دے دیا گیا۔ اوگرا کے دیگر ارکان کی تعیناتیوں میں بھی تاخیر کی جا رہی ہے اور عارضی چارج سے کام چلایا جا رہا ہے ۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی سرکاری افسر ایسے عہدے پر نہیں رہ سکتا جہاں فرائض میں تصادم ہو ۔ اوگرا چیئرمین کے تقرر کا یہ عمل اقوام متحدہ کے انسداد کرپشن کنونشن کے تحت پاکستان کے بین الاقوامی وعدوں کی بھی خلاف ورزی ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ نے 2017 اوگرا چیئرمین کی تعیناتی کے لیے مستقل رولز بنانے کا حکم دیا تھا ۔ وفاقی حکومت اور متعلقہ وزارتیں ہائی کورٹ کے فیصلے کی تعمیل کرنے میں مکمل ناکام رہی ہیں ۔
