Friday, May 15, 2026
ہومتازہ ترینآئی ایم ایف ایف بی آرکی کارکردگی سے ناخوش، ٹیکس شارٹ فال 684ارب تک پہنچ گیا

آئی ایم ایف ایف بی آرکی کارکردگی سے ناخوش، ٹیکس شارٹ فال 684ارب تک پہنچ گیا

اسلام آباد (سب نیوز)عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف)نے ایف بی آر کی کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال میں ایف بی آرکو ٹیکس ریونیو میں بھاری شارٹ فال کا سامنا ہے،چھ ماہ میں ٹیکس خسارہ 336 ارب روپے رہا جبکہ دس ماہ کے دوران یہ بڑھ کر 684ارب روپے تک پہنچ گیا۔

آئی ایم ایف کاکہنا ہے کہ ٹیکس ہدف میں کمی اس بات کاثبوت ہے کہ پاکستان میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے،اسی لیے زیادہ کاروبار اور ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا ناگزیر ہوچکا ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے دکانداروں اورریٹیلرزکی ٹیکس رجسٹریشن بڑھانے پرزوردیتے ہوئے کہا ہے ذیادہ کاروبار ٹیکس نیٹ میں لانیکی ضرورت ہے،بڑا مالی لین دین صرف انہی افراد کو کرنے کی اجازت ہونی چاہیے جو انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہوں،پاور، آئل اور گیس سیکٹر سے ٹیکس وصولی ہدف سے کم رہی۔

دستاویزات کے مطابق پاور،آئل اور گیس سیکٹر سے ٹیکس وصولی بھی مقررہ ہدف سے کم رہی،جبکہ ٹیکس چوری روکنے کے لیے نیاسسٹم،ڈیجیٹل انوائسنگ اور فیکٹری پیداوار کی نگرانی سے متعلق اقدامات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ایف بی آر نے دعوی کیا ہے کہ اگست 2026تک نیا آڈٹ نظام لایا جائے گا،تاکہ ٹیکس دہندگان کا یکساں اور شفاف احتساب ممکن بنایا جاسکے۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ان اصلاحاتی اقدامات سے اضافی آمدن کا فائدہ آئندہ مالی سال میں متوقع ہے،تاہم اس وقت زیادہ توجہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مرکوز ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔