انقرہ(سب نیوز) پاکستان اور ترکیہ کے تاریخی و ثقافتی تعلقات کو اجاگر کرنے کے لیے پاکستان ترکیہ تعلقات، خلافت تحریک سے دورِ حاضر تک ثقافتی روابط کے عنوان سے ایک علمی و ثقافتی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب پاکستان کے سفارتخانے انقرہ اور انقرہ یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقد ہوئی، جس میں ارکان پارلیمنٹ، ماہرینِ تعلیم، سفارتی نمائندگان، طلبہ اور سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کی۔تقریب کے مقررین میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید، ترک ارکان پارلیمنٹ علی شاہین اور برہان کایاترک، پروفیسر ڈاکٹر عرفان البیارک(ڈین، فیکلٹی آف لینگوئج، ہسٹری اینڈ جیوگرافی)اور انقرہ یونیورسٹی کے شعب اردو کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اسومان بیلن اوزجان شامل تھے۔
اپنے خطاب میں سفیر پاکستان ڈاکٹر یوسف جنید نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گہرے، تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ رشتے مشترکہ تاریخ، ثقافتی مماثلت اور باہمی احترام پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات صدیوں پر محیط ہیں، جن میں برصغیر کے مغل دور کے ترک اثرات بھی شامل ہیں، اور بابر کا تعلق بھی ترک النسل تھا۔انہوں نے لسانی و ثقافتی روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کا نام ترکی زبان کے لفظ اوردو سے ماخوذ ہے اور دونوں زبانوں میں ہزاروں مشترک الفاظ پائے جاتے ہیں۔انہوں نے انقرہ یونیورسٹی کے شعب اردو کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ اردو زبان و ادب کے فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان علمی و ثقافتی تعاون کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
رکنِ پارلیمنٹ علی شاہین نے پاکستان میں اپنی طالب علمی کے دور کے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام کی محبت اور مہمان نوازی بے مثال ہے، اور پاکستان ترکیہ دوستی اللہ تعالی کی طرف سے ایک مقدس امانت ہے۔برہان کایا ترک نے بھی پاکستان میں اپنے طالب علمی کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل یکجہتی اور تعاون کو خراج تحسین پیش کیا۔پروفیسر ڈاکٹر عرفان البیارک نے علمی تعاون کو تعلقات کی مضبوطی کے لیے بنیادی ستون قرار دیا جبکہ پروفیسر ڈاکٹر اسومان بیلن اوزجان نے تعلیمی و ثقافتی تبادلوں کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔تقریب کے اختتام پر پاکستانی طلبہ نے ثقافتی پروگرام پیش کیے جن میں شاعری، قوالی، روایتی رقص اور ثقافتی نمائش شامل تھی، جنہیں حاضرین نے بھرپور سراہا۔تقریب کا اختتام پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ثقافتی، علمی اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کے اعادے کے ساتھ ہوا۔
