اسلام آباد: (سب نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ میں سی ڈی اے سے متعلق پلاٹ الاٹمنٹ کیس کی سماعت کے دوران ایک دلچسپ صورتحال دیکھنے میں آئی، جب معزز جج جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے وکیل درخواست گزار کے دلائل پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار راجہ فیصل یونس اپنے دلائل سے عدالت کو مطمئن نہ کر سکے، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ “راجہ صاحب، آپ کے دلائل سے مطمئن نہیں ہوں، لیکن ایک ریلیف آپ کو دے دیتا ہوں۔”
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ “ایسا کرتے ہیں اس کیس کا فیصلہ نہیں کرتے، یہ کیس نئے جج صاحب سن لیں گے۔ ہو سکتا ہے وہ آپ کی بات سن کر سمجھ سکیں، آپ نئے جج صاحب کے آگے ایک ٹرائی کر لینا۔”
جسٹس محسن اختر کیانی کے ان ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات ایک جج کیس نہیں سمجھ سکتا، لیکن دوسرا سمجھ جاتا ہے۔
سماعت کے دوران وکیل سی ڈی اے نے بھی جسٹس محسن اختر کیانی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ “میرے لیے اعزاز ہے کہ ہم آپ کے سامنے پیش ہوتے رہے۔”
