میونخ: نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کے تعلقات کو درپیش چیلنجز کے باوجود امریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، لیکن اس کے لیے “ایک مضبوط نیٹو کے اندر ایک مضبوط یورپ” کی ضرورت ہے۔
روٹے نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو کے بعض ارکان سے واضح طور پر ناراض ہیں، اور وہ ٹرمپ کی ناراضگی کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپ نیٹو میں زیادہ سے زیادہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ نیٹو “غیر صحت مندانہ انحصار” سے حقیقی شراکت داری پر مبنی ٹرانس ایٹلانٹک اتحاد کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی جوہری چھتری یورپی سلامتی کی حتمی ضمانت ہے اور انہیں یقین ہے کہ یہ برقرار رہے گی۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے حال ہی میں متعدد مواقع پر شکایت کی ہے کہ نیٹو کے یورپی ممبران ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی حمایت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے نیٹو کو “کاغذی شیر” قرار دیتے ہوئے عندیہ دیا کہ وہ نیٹو سے دستبرداری پر غور کر رہے ہیں۔
