ہومپاکستانپی آر اے کا پریس گیلری کی بندش کے خلاف قومی اسمبلی اجلاس سے واک آئوٹ،کالی پٹیاں ، کراس والے ماسکس پہن کر میڈیا پر پابندیوں کے خلاف علامتی احتجاج کیا گیا

پی آر اے کا پریس گیلری کی بندش کے خلاف قومی اسمبلی اجلاس سے واک آئوٹ،کالی پٹیاں ، کراس والے ماسکس پہن کر میڈیا پر پابندیوں کے خلاف علامتی احتجاج کیا گیا

اسلام آباد،پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر پارلیمانی پریس گیلری کی بندش کے خلاف کالی پٹیاں باندھ کر اور کراس والے ماسکس پہن کر میڈیا پر پابندیوں کے خلاف علامتی احتجاج کیا گیا۔
ارکان پی آر اے قومی ترانے کے اختتام پر گیلری سے باہر آئے تو سپیکر نے معاون خصوصی و چیف وہیپ عامر ڈوگر، رکن اسمبلی امجد خان نیازی اور حکومتی رکن اسمبلی سائرہ بانو کو پریس گیلری میں صحافیوں سے مذاکرات کے لئے بھیجا۔ سیکرٹری پی آر اے آصف بشیر چوہدری کا اس مئوقع پر کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے پریس گیلری بند کر کے انتہائی غلط اقدام کیا۔ایسی روایات تو آمرانہ ادوار میں بھی نہیں ملتی۔سپیکر نام بتائیں کس کے مشورے پر پریس گیلری بند کی گئی اور پی آر اے کی منتخب باڈی پر لگائے جانے والی بہتان کی وضاحت ضروری ہے۔آصف بشیر چودھری نے کہا کہ پریس گیلری ہماری وفا کا کعبہ ہے، پریس گیلری سینئرز سے ملی میراث اور ہمارے پاس جونئیرز صحافیوں کی امانت ہے پریس گیلری کے تقدس کی ہامالی پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ صدر صدیق ساجد کا کہنا تھا کہ پی ر اے متحد ہے اور اس میں کوئی دوسرا دھڑا نہیں اگر کوئی اور دھڑا ہوتا تو وہ گیلری میں موجود ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے وقت بھی ہمیں دعوت نامے نہیں دیئے گئے بلکہ غیر متعلقہ رپورٹرز اور افراد کو دیئے گئے۔ ہمی علم نہیں کہ کس کے کہنے پر سپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمانی پریس گیلری کی بندش کا فیصلہ کیا۔ چیف وہیپ عامر ڈوگر کا جواب میں کہنا تھا کہ پریس گیلری بند ہونے کے معاملے پر ہم پی آر اے کے ساتھ ہیں۔فوری طور پر سپیکر سے مل کر معاملہ کرائیں گے ۔انہوں نے پی آر اے کی کمیٹی کی سپیکر سے ملاقات کروانے کی یقین دھانی کرواتے ہوئے کہا کہ ہم ایک دوسرے کے بغیر نہیں چل سکتے۔اس لئے ضروری ہے کہ معاملات حل ہوں۔ آخر میں سیکریٹری پی آر اے نے پارلیمانی وفد کا شکریہ ادا کیا اور گزارش کی ہماری دردمندانہ گزارشات بھرپور طریقے سے سپیکر کے سامنے رکھی جائیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔