اسلام آباد، وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن منتخب حکومت گرانے کیلئے فوج کے پیچھے پڑی ہے، جانے والے حکمران بیس ارب ڈالر کا خسارہ چھوڑ کر گئے، اقتدار میں آئے تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، تحریک انصاف نے معیشت کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا، آج خسارہ ایک اعشارہ آٹھ ڈالر کی سطح پر آگیا، تبدیلی کا راستہ انتہائی کٹھن،کامیابی کا شارٹ کٹ ہے نہ ہی کوئی پرچی پکڑ کر لیڈر بن سکتا ہے۔وہ جمعرات کو پی ٹی آئی کی 3 سالہ کارکردگی کے حوالے سے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ جب وزیراعظم بنا تو یہی کہا کہ مشکل وقت ہے لیکن گھبرانا نہیں ہے، ہمارے تین سال بہت مشکل گزرے ،جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ہمارے پاس قرض کی ادائیگیوں کے لیے پیسے نہیں تھے، سعودی عرب اور چین ہماری مدد نہ کرتے تو کافی مشکلات کا سامنا ہوتا، ہمارے روپے کی قدر اور زیادہ گرتی، پیسے نہ ہونے کی وجہ سے مجبوری میں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، آئی ایم ایف کی شرائط پر چلنے سے عوام کومشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ کسی طرح فوج حکومت کو گرا دے، مافیا نے ہماری فوج کے خلاف تقریریں کیں، مشکلات سے نمٹنے میں خاص طور پر پاک فوج کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ایک سال بعد ہم مشکل وقت سے نکلنے لگے تھے کہ کورونا آگیا، لاک ڈاون سے متعلق اپوزیشن نے بہت زیادہ تنقید کی، لاک ڈان کے باعث کورونا کے پھیلا میں کمی آتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے پاکستان کی مثال دی کہ پاکستان نے بہتر طریقے سے کورونا کو ہینڈل کیا۔عمران خان نے کہا کہ غریب ممالک سے ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر روپے چوری ہوکر آف شور اکانٹس میں منتقل ہوتے ہیں، (ن) لیگ کے 8 تا 10 برسوں میں اینٹی کرپشن پنجاب نے صرف ڈھائی ارب روپیہ ریکور کیا جب کہ اس کے مدمقابل ہمارے تین برس میں صرف پنجاب میں کرپشن کا 450 ارب روپے ریکور کیا گیا، ملک تب تباہ ہوتا ہے جب اس کے وزیراعظم اور وزیر چوری شروع کردیتے ہیں، قانون کی حکمرانی تب ہوتی ہے جب قانون سب کے لیے یکساں ہو۔عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت میں آئے تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکانٹ خسارہ ورثے میں ملا جو برسوں بعد کم ہوکر صرف ایک ارب 8 کروڑ ڈالر تک آگیا۔وزیراعظم نے کہا کہ یورپ کو افغانستان میں صرف خواتین کی فکر ہے، کبھی کسی نے باہر سے آکر کسی ملک میں خواتین کو حقوق دلائے؟ یقینی بنارہے ہیں کہ خواتین کو جائیداد میں حصہ ملے، کیوں کہ خواتین کو جائیداد میں حصہ نہ ملنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اسی لیے ہم نے وراثتی سرٹیفکیٹ نادرا کے ذریعے دینا شروع کردیا۔عمران خان نے کہا کہ ملک میں پانی کی قلت دور کرنے کے لیے اگلے دس برس میں دس ڈیم بنانے جارہے ہیں، مہمند ڈیم 2025 تک مکمل ہوجائے گا، اسی طرح ہم نے تعلیم کے شعبے میں انقلابی قدم اٹھایا، تعلیم میں ہم ایک نصاب لے کر آئے یہ ہمارے لیے ایک مشکل ترین کام تھا۔اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک کا سب سے بڑا اثاثہ غیرممالک میں بیٹھے پاکستانی ہیں جو بیرون ملک سے پاکستان ریمی ٹینسز بھیج رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم کبھی بھی اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، ہم نے اپنے 70 ہزار لوگوں کی قربانی دی، لوگ ہمارے مارے گئے، معیشت ہماری تباہ ہوئی لیکن اس کے باوجود ہمیں ہی الزام دیا جارہا ہے کہ ہماری وجہ سے امریکا افغانستان میں کامیاب نہیں ہوا، ہم نے طے کرلیا کہ آئندہ ہمیں اپنی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے نہیں دینی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں امریکا نے 480 ڈرون حملے کیے، ڈرون حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثا پاکستانی حکومت سے اس کا بدلہ لیتے تھے، امریکا ہمارا اتحادی ہوکر ہمارے اوپر ہی بمباری کرتا رہا۔عمران خان نے کہا کہ افغان قوم دلیر اور لڑنے والی قوم ہے، سویت یونین نے افغانستان پر قبضے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام ہوگیا، ابھی ہمیں ان طالبان کی بات پر یقین کرنا ہے، جب طالبان اپنی بات پر قائم نہیں رہیں گے تو اس وقت کی اسی وقت دیکھی جائے گی اس وقت پوری دنیا کو کوشش کرنی چاہیے کہ افغانستان میں امن قائم ہو۔ تقریب میں گورنر سندھ عمران اسماعیل نے پارٹی ترانہ گایا۔قبل ازیں تقریب میں گلوکار عطااللہ عیسی خیلوی نے بھی آواز کا جادو جگایا جس پر ہال میں موجود کارکن جھوم اٹھے۔اس کے بعد ابرار الحق آئے اور انہوں نے حاضرین کو محظوظ کیا۔قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کسی اور سیاسی جماعت میں ایسا کرنے کی جرت نہیں، تیس تیس سال حکومت کرنے والے منہ چھپا رہے ہیں ، ہم فخر سے کچھا چٹھا پیش کریں گے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی۔عمران خان نے 18 اگست 2018 کو وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔علاوہ ازیں کرپشن کے خاتمے، ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کا نعرہ لگا کر عمران خان کی قیادت میں بائیس سالہ جدوجہد کے بعد اقتدار میں آنیوالی تحریک انصاف کی حکومت کے وفاق میں تین برس ہوگئے۔حکومت سنبھالنے کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے غربت ، بیروزگاری اور مہنگائی کے خاتمے پر توجہ مرکوز کی۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے منشور میں پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا اعلان تو کر دیا مگر تین سال بعد بھی اس وعدے کی تکمیل حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔حکومت نے نیا پاکستان کامیاب نوجوان، احساس کفالت، پناہ گاہ اور انصاف صحت کارڈ جیسے منصوبے شروع کئے۔ یکساں نصاب تعلیم، فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام، جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ اور کرتار پور راہداری جیسے منصوبوں سے خوب داد سمیٹی۔ موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لئے دس بلین ٹری منصوبہ بھی دنیا میں توجہ کا مرکز رہا۔ ملک تاریخ میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کا آغاز بھی کیا گیا۔حکومت کے قیام کے ڈیڑھ سال بعد ہی دنیا بھرمیں کورونا جیسی خطرناک وبا پھوٹ پڑی۔ وزیراعظم کی اسمارٹ لاک ڈان پالیسی سے پاکستان کی معیشت نقصان سے بچ گئی۔ حکومت کی کوششوں سے پاکستان ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بھی معاشی پالیسیوں سے فروغ ملا، لوگوں کی ویکسی نیشن میں حکومت نے قابل تعریف اقدامات کئے، تقریبا ساڑھے چار کروڑ افراد کو ویکسین بھی لگا دی گئی۔پی ٹی آئی حکومت نے 3 سال میں خارجی محاز پر بھی کامیابیاں سمیٹی۔ مسئلہ کشمیر کا ہر عالمی فورم پر پرچار کیا، اسلامو فوبیا کامقابلہ کیا اور افغان امن عمل میں مصالحتی کردار ادا کیا۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن کیے۔ 90 لاکھ پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے الیکڑانک ووٹنگ سسٹم کے قیام کا عمل جاری ہے۔ پاکستان سٹیزن پورٹل کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جہاں شہریوں کی شکایات کی دادرسی ہو رہی ہے۔دوسری جانب معاشی محاذ پر حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔ حکومت عوام کو کوئی بڑا ریلیف نہ دے سکی۔ کمر توڑ مہنگائی اور بے روز گاری نے لوگوں کو پریشان کر دیا۔ آٹا، گھی، چینی اور دیگر اشیائے خورو نوش کے قیمتیں بھی کئی گنا بڑھ گئیں۔ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر سبسڈائز اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔سیاسی محاذ پر پی ڈی ایم نے حکومت کو ٹف ٹائم دیا۔ مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد مارچ ہو یا پی ڈی ایم کے شہر شہر جلسے، حکومت کے لئے مشکلات کا باعث بنے رہے۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف علاج کے لئے بیرون ملک چلے گئے جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری، شہباز شریف سمیت دیگر اپوزیشن رہنما عدالتوں اور جیلوں کے چکر لگاتے رہے۔ سیاسی اور معاشی مشکلات کے باوجود پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر الیکشن میں کامیابی بھی حاصل کی۔ناقدین کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے دور میں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا جب کہ ڈالر کی قدر بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس کی وجہ سے امپورٹڈ اشیا اور گاڑیاں بے پناہ مہنگی ہو گئی ہیں۔ادھر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کتنی حکومتیں اپنی کارکردگی پر عوام کو جوابدہی کرتی رہیں، 30 سال حکومت کرنے والے اپنا منہ چھپا رہے ہیں۔
اپوزیشن منتخب حکومت گرانے کیلئے فوج کے پیچھے پڑی ہے، وزیراعظم
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
