اسلام آباد،اسلام آباد کے علاقے تمہ اور موریاں کے رہائشیوں کی زمین پر سپریم کورٹ بار کی رہائشی اسکیم کے خلاف کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کو نوٹس، جواب طلب، عدالت نے بار کو پلاٹ لینے والے وکیلوں کی لسٹ جمع کرانے کاحکم دیدیا۔وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ، ڈی جی ہاؤسنگ اتھارٹی کو بھی نوٹس جاری کر کے جواب طلب کرلیا گیا۔پٹشنر احسن امتیاز بھٹی سمیت تین درخواست گزاروں کی جانب سے دانیال حسن ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔وکیل کے مطابق لینڈ سپروائزری کمیٹی نے کہا ہے کہ موضع موریاں کی باقی زمین پر سیکشن فور لگا دی جائے ، ہم متاثرین ہیں اور ابھی تک ہمیں طے شدہ معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔وکیل دانیال حسن نے موقف اپنا یا کہ لینڈ سپروائزہ کمیٹی غیر قانونی قرار دے کر اس کے اقدامات کو کالعدم قرار دیا جائے، معاوضے سے متعلق دوبارہ مارکیٹ ویلیو کا جائزہ لینے کا حکم دیا جائے۔سپریم کورٹ بار کی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل شیریں عمران عدالت کے سامنے پیش ہوئے ۔وکیل شیریں عمران نے موقف اپنایا کہ صدر سپریم کورٹ بار نے مجھے کہا ہے کہ وہ اس پر دلائل دیں گے ۔وکیل دانیال حسن نے کہا کہ کیا ہم پلاٹوں کے لیے سڑکوں پر تھے یا رول آف لا کے لیے ؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ پلاٹ بے گھر وکیلوں کے لیے ہیں ؟عدالت نے پلاٹ لینے والے وکیلوں کی لسٹ جمع کرانے کا حکم دیدیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو بے گھر وکیلوں کے لیے ہوں گے طیب شاہ صاحب بھی بے گھر ہوں گے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے جواب دیا کہ جی بالکل میں بے گھر ہوں بار سال پہلے اپلائی کیا تھا۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماتحت عدلیہ ، ہائی کورٹ ، سپریم کورٹ سے ان مالکان کے کیسز خارج ہو چکے، یہ تمام وکیل چھ سال پہلے سے ہی ساری پیمنٹ کر چکے ہیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ نا ہو جو امیر وکیل ہے وہ بھی یہ پلاٹ لے جائے ۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسی فیصد وکیل نے گھر ہیں لوگوں نے جمع پونجی بیچ کر سب پیمنٹ جمع کرا رکھی ہے۔عدالت نے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔
موضع تمہ موریاں کے رہائشیوں کی زمین پرقبضہ کا کیس:عدالت نے فیصلہ سنا دیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
پچھلی خبر
اگلی خبر
