واشنگٹن ؛(آئی پی ایس) معروف امریکی سیاستدان محمد عارف نے کہا ہے کہ امریکہ میں امیگریشن کی سخت پالیسیاں معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں بے شمار کاروبار متاثر ہو رہے ہیں، مارکیٹیں ویران ہو رہی ہیں اور گھروں پر ’’کرائے پر دستیاب ہے‘‘کے سائنز عام ہوتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ورکرز کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے کیونکہ امیگریشن کی پابندیوں کے باعث ہزاروں افراد امریکہ چھوڑ چکے ہیں، جبکہ حکومت روزانہ تقریباً 3 ہزار افراد کو ڈی پورٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایسی سختیاں امریکی معیشت کو تباہی کی جانب دھکیل رہی ہیں۔
محمد عارف نے اس صورتحال میں ’’ڈگنٹی ایکٹ‘‘ کو ایک مثبت پیشرفت قرار دیا اور کہا کہ یہ قانون امیگریشن بحران کے حل کے لیے ایک متوازن راستہ فراہم کرتا ہے۔ “اگر یہ بل کانگریس سے منظور ہو جاتا ہے تو لاکھوں محنتی افراد کے لیے ورک پرمٹ کا راستہ کھل سکتا ہے، جو امریکی معیشت کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے”۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس قانون کے تحت مکمل شہریت کی گنجائش نہیں، تاہم محنتی اور باصلاحیت امیگرینٹس کے لیے یہ ایک بڑی سہولت ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ڈگنٹی ایکٹ سے نہ صرف امریکہ کو فائدہ ہوگا بلکہ اس کی مضبوط معیشت کا مثبت اثر دنیا بھر پر بھی پڑے گا۔
محمد عارف نے بطور امریکی شہری اور سیاسی رہنما، تمام متعلقہ حلقوں پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھیں اور انسان دوست، اقتصادی طور پر فائدہ مند امیگریشن پالیسیوں کی حمایت کریں۔
امریکہ میں امیگریشن پالیسیوں کی سختیاں معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہیں،’ڈگنٹی ایکٹ‘امید کی نئی کرن ہے: محمد عارف
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
