ہومسائنس و ٹیکنالوجی6 جی ٹیکنالوجی کی رفتار فائیو جی سے 20 گنا زیادہ ہوگی

6 جی ٹیکنالوجی کی رفتار فائیو جی سے 20 گنا زیادہ ہوگی

فرینکفرٹ، اس وقت جبکہ دنیا کے کچھ ممالک میں فائیو جی موبائل کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کا آغاز ہوچکا ہے جبکہ بیشتر ممالک اس کی تیاری کرچکے ہیں
جنوبی کوریا کی ایل جی الیکٹرونکس نے جرمن تحقیقی اداروں کے تعاون سے سکس جی (6G) سگنلز کو سب سے زیادہ فاصلے تک بھیج کر ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق، جرمنی میں کیا گیا یہ تجربہ ایل جی الیکٹرونکس اور مشہور جرمن ادارے فرانہافر گیسیل شافٹ کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔تجربے کے دوران 6 جی سگنلز کو 328 فٹ (100 میٹر) دوری تک بھیجنے اور ڈیٹا منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی۔ایل جی کی پریس ریلیز کے مطابق، 6 جی موبائل کمیونی کیشن کیلیے استعمال ہونے والی ریڈیو لہریں بہت زیادہ فریکوئنسی کی ہوتی ہیں جو فاصلہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ بہت تیزی سے کمزور پڑتی جاتی ہیں۔یہ مسئلہ حل کرنے کیلیے ماہرین نے بہتر ایمپلی فائرز کے ساتھ ساتھ ہائی گین انٹینا بھی استعمال کیے جبکہ 155 سے 175 گیگاہرٹز فریکوئنسی والی ریڈیو لہریں نشر کی گئیں۔صرف 100 میٹر دوری تک 6 جی سگنلز کے ذریعے ڈیٹا منتقلی بظاہر ایک چھوٹا کارنامہ ہے مگر ان کی بھی بہت اہمیت ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔