ہومتازہ ترینطالبان نے افغانستان میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا

طالبان نے افغانستان میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا

کابل،کابل میں صدارتی محل پر قبضے کے بعد طالبان نے اپنی فتح کا دعوی کرتے ہوئے جنگ ختم کرنے کا اعلان کر دیا ، جرمنی سمیت تقریبا 60ملکوں نے طالبان سے غیر ملکی اور افغان شہریوں کے محفوظ انخلا کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضے کے بعد طالبان نے جنگ ختم کرنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ نئی حکومت کس شکل اور طرز کی ہو گی اس کی وضاحت جلد ہی کر دی جائے گی۔ طالبان کے ایک ترجمان محمد نعیم نے غیر ملکی میڈیا سے بات چیت میں کہا، ”ہم جو چاہتے تھے ہم نے اسے حاصل کر لیا ہے اور وہ ہے ہمارے ملک اور عوام کی آزادی۔”طالبان ترجمان نے افغانستان میں جنگ کے خاتمے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یقین ہے غیر ملکی طاقتیں افغانستان میں ناکام تجربہ نہیں دہرائیں گی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان نے افغانستان میں جنگ کے خاتمے کااعلان کردیا ، افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک وعوام کی آزادی کا مقصدحاصل کرلیا گیا ہے، یقین ہے غیر ملکی طاقتیں افغانستان میں ناکام تجربہ نہیں دہرائیں گی۔ملک سے فرار ہو کر تاجکستان جانے والے اشرف غنی نے کہا ہے کہ انتقال اقتدار کا معاہدہ طے پانے کے بعد استعفیٰ دیں گے، عبداللہ عبداللہ، حامد کرزئی اور گلبدین حکمت یار پر مبنی عارضی نظم و نسق کیلئے رابطہ کونسل بن گئی، ملک میں عبوری حکومت بنانے کی تیاریاں جاری ہیں۔افغانستان کی جنگی صورت حال واضح ہو گئی، طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا۔ دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبد الغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکباد کا پیغام جاری کر دیا، انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کی اصل آزمائش اب شروع ہوئی ہے، عوام کی خدمت کرکے دنیا کے لیے مثال قائم کرنا چاہتے ہیں۔طالبان ترجمان محمد نعیم نے کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ کا اختتام ہوگیا، طالبان کو 20 سال کی جدوجہد اور قربانیوں کا پھل مل گیا، افغانستان میں نئے نظام حکومت کی شکل جلد واضح ہو جائیگی۔ افغانستان کی سر زمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ امید ہے غیرملکی قوتیں افغانستان میں اپنے ناکام تجربے نہیں دہرائیں گی۔ طالبان نے افغان صدارتی محل کا کنٹرول سنبھال لیا۔طالبان کمانڈر عبدالقیوم ذاکر نے عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی خونریزی کے بغیر کابل فتح کرنے پر خوش ہیں، عارضی نظم و نسق کیلئے رابطہ کونسل بن گئی۔ عبداللہ عبداللہ، حامد کرزئی اور گلبدین حکمت یار شامل ہیں۔ ملک میں عبوری حکومت بنانے کی تیاریاں جاری ہیں۔طالبان رہنماوں نے کہا ہے کہ مستقبل کا فیصلہ وسیع تر مشاورت سے ہوگا، افغان قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب بھی ملک سے فرار ہو گئے۔ نائب صدر امراللہ صالح بھی افغانستان سے بھاگ گئے۔ اشرف غنی نے بھاگنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ خونریزی سے بچنے کیلئے افغانستان چھوڑا، وطن میں رہتا تو بے شمار لوگ مارے جاتے، قائم مقام وزیر دفاع نے بھاگنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ہاتھ باندھ کر ملک بیچ دیا گیا، کابل شہر میں اب بھی بے یقینی کی صورت حال ہے۔طالبان نے شہر کی گلیوں میں گشت شروع کر دیا۔ ائیرپورٹ کے قریب فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دی ہیں۔ شہر کی فضاوں میں غیر ملکی ہیلی کاپٹر اور جہاز پرواز کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ ملک چھوڑنے کے لیے کابل ائیرپورٹ پر موجود ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔