تحریر: واصل بٹ
@WaselPTI
کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی جنہوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہیں کرائی نوبال کرکٹ کے کھیل میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ کرکٹ میں نوبال کا بڑا حصہ ہوتا ہے کئی دفعہ نوبال کی وجہ سے میچ کا پانسا پلٹ جاتا ہے اور صرف نوبال کی وجہ سے ہارتی ٹیم جیت جاتی ہے اور جیتی ٹیم ہارجاتی ہے اور یہ فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کے لیے مہنگا ثابت ہوتا ہے۔
پہلے نو بال کرانے پر بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو ایک اضافی بال دی جاتی تھی اور ایک اضافی رن دیا جاتا تھا لیکن آج کے دورمیں اس کے ساتھ (فری ہٹ) بھی دی جاتی ہے جس میں بلے باز کے آوٹ ہونے کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا جوگیند باز کے لیے سخت سزا ہے۔
کرکٹ کی تاریخ میں بہت سے کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے بہت سی نوبال کرائیں لیکن کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے کھلاڑی بھی ہیں جنہوں نے اپنے پورے کیریر میں ایک بھی نوبال نہیں کرائی یہ وہ کھلاڑی ہیں جو میدان میں بالنگ کے لیے آتے تو بڑے بڑے بلے بازوں کے پسینے چھوٹ جاتے تھے۔
عمران خان
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا شمار بھی ایسے ہی کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے کرکٹ کے پورے کیریئرمیں ایک بھی نوبل نہیں کرائی وہ ایسے آل راؤنڈر تھے جن کے میدان میں اترتے ہیں مدمقابل کھلاڑی محتاط ہوجاتا تھا انہوں نے ہمیشہ اپنے کھیل سے قوم کا سر بلند کیا اور بطور آل راؤنڈر اپنی ٹیم کو جتوا کر پاکستان کی عزت بڑھائی آل راؤنڈر کے طور پر حیران کن پرفارمنس دی۔ 1971 میں 18 سال کی عمر میں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنے کرکٹ کیرئیر کا آغاز کیا اور 1992 میں اپنی قوم کو ورلڈ کپ کا تحفہ دے کر آپ نے کرکٹ کیریئر کا اختتام کیا۔ عمران خان نے اپنے 21 سالہ کیریئر میں 88 ٹیسٹ اور 175 ون ڈے کھیلنے اور ٹیسٹ کیریئر میں 362 اور ون ڈے میں 182 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے اور ٹیسٹ میں 3807 اور ون ڈے میں 3709 رنز بنائے جو انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں 270000 گیندیں کرائیں جن میں سے ایک بھی نوبال نہیں ہوئی جو ایک شاندار کارنامہ ہےعمران خان پاکستان کے عظیم کپتانوں میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں جنہوں نے ٹیم کو ساتھ لے کر محنت کی اور کامیابی حاصل کی اور ریٹائرمنٹ کے بعد اسی حکمت عملی نے انہیں سیاست کے میدان میں بھی کامیاب کیا
لانس گبز
لانس گبز ویسٹ انڈیز کے وہ مایہ ناز کھلاڑی تھے جنہوں نے عالمی کرکٹ میں بہت سے ریکارڈ اپنے نام کیے وہ 300 وکٹیں لینے والے دنیا کے دوسرے بالر تھے جبکہ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے دنیا کے پہلے اسپنر بھی تھے انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1958 میں کیا اور 1976 تک کھیلتے رہے۔ گبز نے 79 ٹیسٹ اور تین ون ڈے کھیلے اور انہوں نے ٹیسٹ میں 309 اور ون ڈے میں 2 وکٹیں حاصل کیں۔ لانس گز نے بھارت کے خلاف 38 رنز کے بدلے 8 وکٹیں لے کر ویسٹ انڈیز کو فتح سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے اپنے کیرئیر میں 27000 بالز کرائیں لیکن کوئی بھی نوبال نہیں دی اور کرکٹ کی تاریخ میں لانگ گبز پہلے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے پورے کیریئر میں نو بال نہ کرانے کا ریکارڈ اپنے نام کیا اس سے پہلے کوئی بھی یہ ریکارڈ نہ بناسکا تھاجس نے اپنے پورے کیریئر میں ایک بھی نوبال نہ کرائی ہو۔
این بوتھم
این بوتھم کا شمار دنیا کے بہترین آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران بہت سے غیرمعمولی ریکارڈ قائم کیے 1976 میں انہوں نے اپنے بین الاقوامی سطح پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 1992 میں اپنے کیریئر کا اختتام کیا ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے حیرت انگیز کارنامے انجام دیے۔ این بوتھم نے 102 ٹیسٹ اور 116 ون ڈے کھیلے ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے 5200 اور ون ڈے میں 2113 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے۔ این بوتھم نے ٹیسٹ میں 338 اور ون ڈے میں 145 وکٹیں حاصل کیں انہوں نے تقریبا 28000 گیندیں کرائی جن میں ایک بھی نو بال نہیں تھی۔
ڈینس للی
ڈینس للی آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بالر تھے جنہوں نے 70 کی دہائی میں تہلکہ مچایا ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی بن کر 1984 میں ریٹائرڈ ہوئے انہوں نے اپنے کرکٹ کیرئیر میں 70 ٹیسٹ اور 63 ون ڈے میچ کھیلے ٹیسٹ میں 355 اور ون ڈے میں 103 وکٹیں حاصل کیں۔ ڈینس للی کی جارحانہ پرفارمنس ہمیشہ تماشائیوں کو حیران کردیتی تھی اورآسٹریلوی شائقین یہ جان کر بہت خوش ہوں گے کہ انہوں نے اپنے پورے کیرئیر میں ایک بھی نوبال نہیں کرائی۔
باب ولس
باب ولس انگلینڈ کے عظیم گیند بازوں میں سے ایک تھے 1971 میں انہوں نے اپنے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا 1978 میں انہوں نے ون ڈے (کرکٹر آف دی ائیر) ایوارڈ حاصل کیا۔1984 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرڈ ہوئے ریٹائرمنٹ کے بعد اسٹاراسپورٹس کے ساتھ بھی کام کیا۔
باب ولس نے 90 ٹیسٹ اور 64 ون ڈے میچ کھیلے ٹیسٹ میں انہوں نے 325 اور ون ڈے میں 80 وکٹیں حاصل کیں انہوں نے تقریباً 21000 کرائیں لیکن ایک بھی نو بال نہیں کرائی۔ 2019 میں باب ولس کا انتقال ہوا۔
