اسلام آباد(آئی پی ایس )وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی تقرری بھی 26ویں آئینی ترمیم کا حصہ ہے،آئینی ترمیم میں چیف جسٹس کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے، چار سینئر ترین ججز جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہوں گے، بینچ کی تشکیل کا اختیار بھی جوڈیشل کمیشن کے پاس ہوگا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ بلاول بھٹو نے آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے ان تھک محنت کی،اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ترمیم پر اتفاق رائے ہوا۔انہوں نے کہا کہ آئینی پیکج انصاف کی فوری فراہمی سے متعلق اہم قدم ہے، چیف جسٹس پاکستان کی تقرری اس پیکج کا حصہ ہے اور چیف جسٹس کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ترمیم میں صوبوں میں آئینی بینچز کا مکینزم شامل کیا گیا ہے، جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے اس میں شقیں شامل ہیں، غیر مسلم ممبر کو بھی جوڈیشل کمیشن کا حصہ بنایاجائے گا جبکہ صوبائی جوڈیشل کمیشن کی شکل وہی رہے گی مگر جو نئی چیز شامل کی وہ پرفارمنس ایویلیو ایشن ہے۔وفاقی وزیرقانون نے کہا کہ جے یو آئی نے آئینی ترامیم میں 5 تجاویز دی ہیں، جے یو آئی کی سود سے متعلق تجویز کو آئینی ترمیم میں شامل کیاگیا، سپریم کورٹ نے بھی سود کے خاتمے سے متعلق آبزرویشن دی تھی، یکم جنوری 2028 سے سودی نظام کا خاتمہ ہوجائے گا۔ وزیر اطلاعات و نشریات عطاتارڑ نے کہا کہ پارلیمان کی بالادستی کے حوالے سے آئین بلکل واضح ہے، آج پاکستانی ریاست کے لیے ایک تاریخی دن ہے، آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی کام عجلت میں نہیں ہوا، ایک ایک شق پر طویل گفتگو کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کو اس عمل سے باہر نہیں رکھا گیا، آئینی ترمیم کا تقاضا تھا کہ اس پر طویل اور سود مند مشاورت کی جائے، یہ جمہوریت کا حسن ہے، کابینہ سے منظوری کے بعد وزیراعظم نے تمام اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا ہے خاص طور پر پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کا جنہوں نے اس حوالے سے خصوصی کوشش کی ہے۔عطاتارڑ نے کہا کہ ججز کی تقرری، احتساب کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے اور کمیٹی کے اندر سول سوسائٹی کے ممبر خصوصی طور پر خواتین کی شمولیت ایک بڑا سنگ میل ہے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ آرٹیکل 9 میں اس سے قبل عدالت نے بہت سی جہتیں نکالی ہیں، پاکستان دنیا کے ان سرکردہ ممالک میں شامل ہورہا ہے جو ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنے آئین میں شقیں شامل کررہا ہے۔انہوں نے مسودے کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کرنے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو نے طے کیا تھا کہ متفقہ مسودے جمعیت علمائے اسلام کی تجاوزیر کو من و عن وہ پیش کریں گے اور سینیٹ میں طے شدہ مسودے کے باقی حصے کو حکومت پیش کرے گی جبکہ قومی اسمبلی میں بل پاس ہونے کے بعد چیئرمین پیپلز پارٹی اس بل کو منظور کروائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ 12 رکنی کمیٹی جس میں اپوزیشن اور حکومت بھی شامل ہے دو تہائی کے ساتھ سنیارٹی کی بنیاد پر موجود پہلے ججز میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے گا، اس سے شفافیت اور واضح کچھ نہیں ہوسکتا اگر سب اس پر ملکر فیصلہ کرتے ہیں تو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔بینچ کی تشکیل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ حکومتیں نہیں کریں گی، چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے لیے اگر بینچ بنتے ہیں تو اس کی تشکیل جوڈیشل کمیشن کریگا۔
انہوں نے بتایا کہ آئینی بینچ سپریم کورٹ کے اندر موجود ججز سے ہی بنے گا اور ان کی عمربھی 65 سال ہے، میں حلفیہ یہ بات کہتا ہوں کہ چیف جسٹس نے پچھلے پانچ یا چھ ماہ میں بارہا کہا کہ اگر ایسی ترمیم لائی جائے گی جس میں عمر کی حد میں اضافہ ہوگا تو اس کا حصہ نہیں بنوں گا۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ہمیں مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کے لیے آئین کے آرٹیکل اے میں مناسب ترامیم کی تجویز دی ہے، ہم نے ان کے ساتھ طے کیا ہوا ہے کہ اس ترمیم کو بھی اتفاق رائے سے منظور کیا جائے گا لیکن اس پیکج کا یہ حصہ نہیں ہے اور کچھ جماعتوں کو اس پر اعتراض ہے۔بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے ہمیں تجویز تھی، ان سے بھی ہمارا وعدہ ہے کہ ہم اگلے مرحلے میں یہ چیزیں زیر غور آئیں گی اور ہم اس پر اتفاق رائے کروانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کی حد 65 سال ہے اور عہدے کی معیاد تین سال سے اگے نہیں جائے گی، اگر 64 سال کے چیف جسٹس ہیں اور ان کی تین سال کی مدت پوری ہوگئی ہے تو وہ ریٹائر ہوجائیں گے۔
