اسلام آباد،وزیرزراعت سندھ اسماعیل راہو نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ کو حصے سے کم پانی دینے کی جوڈیشنل تحقیقات کروائی جائیں،سندھ کیساتھ اتنا بڑا ظلم کیا جارہا ہے لیکن وزیراعظم خاموش بیٹھے ہیں ،ارسا نے پانی قلت کا ذمہ واپڈا کو قرار دیا،یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ واپڈا اپنی مرضی چلائے،ارسا نے بہت بڑا بلنڈر کیا ہے ،سندھ میں زراعت کی تباہی کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔
پیپلزپارٹی کے کوآرڈنیٹر نذیر ڈھوکی بھی کے ہمراہ اسلام آباد سندھ ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر زراعت اسماعیل راہو نے کہا کہ سندھ کو حصے سے کم پانی دینے کی جوڈیشنل تحقیقات کروائی جائے،اتنا بڑا ظلم سندھ کے ساتھ کیا گیا وزیراعظم خاموش بیٹھے رہے،سندھ میں ابتدائی خریف میں بھی پانی رلیز نہین کیا جارہا،ارسا نے پانی قلت کا ذمہ واپڈاا کو قرار دیا،یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ واپڈا اپنی مرضی چلائے،ارسا نے پانی تقسیم میں بڑا بلنڈر کیا ہے،ارسا نے پانی قلت کا اعتراف کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ وفاقی حکومت نے زرعی پیداوار کے متعلق اعداد شمار جھوٹے بتائے،حکومت نے 7 لاکھ کپاس بیلز کا دعوی کیا،کپاس 56 ھزار بیلز پیداوار ہوئی ہے،ملک میں کپاس کارخانے بند ہوتے جارہے ہیں۔سندھ کے صوبائی وزیر زراعت اسماعیل راہو نے کہاکہ پانچ ہزار کیوسک کوٹری بیراج سے پانی جانا چاہیے ،ارسا سے کوئی پوچھنے والا نہیں کپاس کی فصل کو نقصان پہنچ رہا ہے ،جنینگ انڈسٹری بحران کا شکار ہے ملک میں چینی نہیں مل رہی ،چاول ٹارگٹ سے کم کاشت ہورہا ہے چھیاسی ہزار ہیکٹر کاشت ہوا ہے ،کسان کو تباہ حکومت نے کردیا ہے کسان کو نقصان کی وجہ سے ملک میں بے روزگار ی بڑھے گی ،سندھ مطالبہ کرتا ہے سندھ کو پانی کم دینے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے ،سندھ کے کاشتکار کی تباہی کا زمہ دار کون ہے؟سندھ میں پانی کی کمی کی وجہ سے سندھ کی فصلات کو نقصان پہنچا ہے ،حکومتی ترجمان کہتے رہے سندھ کو پانی سر پلس دے رہے ہیں ،حکومتی ترجمان سندھ میں پانی کے معاملے جھوٹ بولتے رہے ،کبھی گندم کے بارے کئتے رہے بمپر کراپ ہوئی پھر باہر سے گندم منگوائی ،حکومت نے نیب الیکشن کمیشن پر قبضہ کیا ہوا عدالتوں پر بھی قبضہ کرنا چاھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سندھ کا پانی زبردستی بند کیا گیا لیکن واپڈا اور ارسا کہتے رہے کہ سرپلس پانی دے رہے ہیں،حکومت مسلسل جھوٹ بول رہی ہے،آج بھی پانی کم دیا جا رہا ہے،حکومت نے نیب الیکشن کمیشن پر قبضہ کیا ہوا عدالتوں پر بھی قبضہ کرنا چاھتے ہیں ،تمام کے تمام اداروں کو یرغمال بنایا ہوا ہے،نیب پیمرا اور دیگر اداروں کو یرغمال بنایا گیا ہے،عدلیہ پر قبضہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے تاکہ پندرہ سال مزید بیٹھے رہیں،سندھ میں ابتدائی خریف میں بھی پانی رلیز نہیں کیا جا رہا۔اسماعیل راہو نے کہاکہ سندھ میں کجھور اور مرچ کی فصل تباہ ہو گئی ہے وفاقی حکومت نے کاشتکاروں کی داد رسی نہیں کی ،پانی کی شارٹیج کا مسئلہ کے پی کے جنوبی پنجاب اور سندھ ہے ،ہم کہتے سندھ کو ا ±ن کے حصہ کا پانی دیا جائے ،بلوچستان کے حصہ کا پانی سندھ نے نہیں ج ±رایا ،سندھ کے حصہ کا پانی نہ دینے کا زمہ دار وفاقی حکومت ہے۔انہوںن ے کہاکہ سندھ میں پانی کی کمی کی وجہ سے سندھ کی فصلات کو نقصان پہنچا ہے ،حکومتی ترجمان کہتے رہے سندھ کو پانی سر پلس دے رہے ہیں ،حکومتی ترجمان سندھ میں پانی کے معاملے جھوٹ بولتے رہے ،کبھی گندم کے بارے کئتے رہے بمپر کراپ ہوئی پھر باہر سے گندم منگوائی ،چاول سے سب سے زیادہ زرمبادلہ ہم کماتے ہیں،نان باسمتی چاول کی سب سے زیادہ کاشت سندھ میں ہوتی ہے،پچھلے سال چار لاکھ ہیکٹرز پر چاول کی کاشت ہوئی لیکن اس سال صرف چھیاسی ہزار ہیکٹرز پر کاشت ہوئی ہے،جو بات ہم دو ماہ پہلے کہتے رہے اب واپڈا اور ارسا مان رہے ہیں،سندھ کے ساتھ جو زیادتی ہوئی ہے اس کے زمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے، ٹریلین روپے کا سندھ کے حصے کے پانی پر ڈاکہ ڈالا گیا،ہم کہتے رہے کہ ٹماٹر کی امپورٹ بند کردیں لیکن نہیں مانا گیا،سندھ میں جب ٹماٹر کی فصل آئی تو پانچ روپے کلو بھی کاشت کار کو نہ ملا،سندھ کے چودہ اضلاع ڈوب گئے لیکن وفاقی حکومت کا ایک نمائندہ تک نہیں آیا۔انہوںنے کہاکہپانی کی تقسیم کی بات آتی ہے تو کہتے ہیں معاہدے کی بجائے دوسرے طریقے سے پانی تقسیم کریں،اپنے مفاد کیلئے کبھی سندھ طاس معاہدہ کبھی دیگر جواز بتائے جا رہے ہیں،تمام صوبوں کی جتنی ضرورت ہے وہ پہلے پوری ہونی چاہیے،ڈاو ن اسٹریم میں دس ملین ایکڑ فٹ یا یومیہ پانچ ہزار کیوسک دیا جانا چاہیے،سندھ میں خریف کے تین اہم فصلیں متاثر ہورہی ہیں۔
