Sunday, July 21, 2024
ہومبریکنگ نیوزایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس: پرویز خٹک نے عمران خان کی موجودگی میں عدالت میں اپنے بیان میں کیا کہا؟

ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس: پرویز خٹک نے عمران خان کی موجودگی میں عدالت میں اپنے بیان میں کیا کہا؟

راولپنڈی: 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے بیان عدالت میں ریکارڈ کرا دیا۔
تفصیلات کے مطابق 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت اڈیالہ جیل میں احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے کی، ریفرنس کے گواہ سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک عدالت میں پیش ہوئے۔
پرویز خٹک نے عدالت کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا، اس موقع پر بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
پرویز خٹک کا اپنے بیان میں کہنا تھا نیب نے مئی 2023 میں مجھ سے 190ملین پاؤنڈ کے حوالے سے بیان لیا، شہزاد اکبر نے کابینہ کو بتایا تھا کہ پاکستانی سے غیر قانونی طور پر باہر بھجوائی گئی بڑی رقم برطانیہ میں پکڑی گئی، شہزاد اکبر نے بتایا کہ پکڑی گئی رقم پاکستان کو واپس کی جائے گی۔
سابق وفاقی وزیر نے عدالت کو اپنے بیان میں بتایا کہ یہ معاملہ کابینہ کے ایجنڈے پر نہیں تھا، میٹنگ میں اضافی ایجنڈے کے طور پر سامنے لایا گیا، اضافی ایجنڈے پر مجھ سمیت دیگر کابینہ اراکین نے اعتراض کیا تھا، کابینہ میں رقم کے حوالے سے کاغذات بند لفافے میں پیش کیے گئے، اضافی ایجنڈے کی منظوری کابینہ سے لی گئی۔
سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کے بیان کے دوران عمران خان روسٹرم پر آگئے، پرویز خٹک کے بیان کے دوران عمران خان مسکراتے رہے۔
آج کی سماعت میں ایک گواہ پر جرح مکمل اور ایک گواہ کا بیان قلمبند ہوا، عدالت نے ریفرنس کی سماعت 13 جولائی تک ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ چند روز قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے مانسہرہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا پرویز خٹک کو عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے بلایا گیا ہے، اگر پرویز خٹک نے عمران خان کے خلاف بیان دیا تو انہیں صوبے میں نہیں رہنے دیں گے۔
علی امین گنڈا پور کے بیان پر پرویز خٹک نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا، علی امین مجھے اور میں علی امین کو اچھی طرح جانتا ہوں، علی امین گنڈا پور بھڑکیں نہ ماریں، نیب نے نوٹس بھیج کر بلایا ہے، کسی کے خلاف بیان نہیں دوں گا لیکن جو کچھ اس وقت کابینہ میں ہوا وہ بیان کروں گا۔

کیس کا پس منظر
یاد رہے کہ رواں سال 6 جنوری کو ہونے والی سماعت میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ پر فردِ جرم عائد نہیں ہوسکی تھی۔
بعد ازاں 6 مارچ کو ہونے والی سماعت میں نیب کے 3 گواہوں کے بیانات قلمبند کرلیے گئے تھے۔
عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سمیت ریفرنس کے 6 شریک ملزمان کو اشتہاری اور مفرور مجرم قرار دے دیا تھا۔
اس سے قبل 4 جنوری کو بھی عمران خان اور ان کی اہلیہ پر فرد جرم نہیں عائد ہوسکی تھی اور 190 ملین پاؤنڈز ریفرنسز میں درخواست ضمانت پر نیب کی جانب سے دلائل دیے گئے تھے جس کے بعد سماعت 6 جنوری تک ملتوی کردی گئی تھی۔
واضح رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں الزام لگایا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو بھیجے گئے 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سینکڑوں کنال مالیت کی اراضی حاصل کی۔
یہ کیس القادر یونیورسٹی کے لیے زمین کے مبینہ طور پر غیر قانونی حصول اور تعمیر سے متعلق ہے جس میں ملک ریاض اور ان کی فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ذریعے 140 ملین پاؤنڈ کی وصولی میں غیر قانونی فائدہ حاصل کیا گیا۔
عمران خان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے طے پانے والے معاہدے سے متعلق حقائق چھپا کر کابینہ کو گمراہ کیا، رقم (140 ملین پاؤنڈ) تصفیہ کے معاہدے کے تحت موصول ہوئی تھی اور اسے قومی خزانے میں جمع کیا جانا تھا لیکن اسے بحریہ ٹاؤن کراچی کے 450 ارب روپے کے واجبات کی وصولی میں ایڈجسٹ کیا گیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔