ہومپاکستانبجٹ میں مزدوروں کو نظر انداز کردیا گیا ،شمس الرحمن سواتی

بجٹ میں مزدوروں کو نظر انداز کردیا گیا ،شمس الرحمن سواتی

اسلام آباد، نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں مزدوروں کو نظر انداز کردیا گیا ہے اور مزدور اس بجٹ کو مسترد کرتے ہیں، حکومت مزدور کی کم از کم اجرت پچاس ہزار روپے مقرر کی جائے، ریاست مدینہ میں وقت کے حکمران اور مزدور کی تنخواہ یکساں تھی اس کا تقاضہ ہے کہ صدر، وزیر اعظم، وزرا، ججوں جرنیلوں اور بیوروکریٹس کی تنخواہ بھی مزدور کی تنخواہ کے مساوی مقرر کی جائے یہ بجٹ مافیا کو نوازنے کے لیے ہے تعمیراتی مافیا بہت بڑا مافیا ہے اور اس بجٹ میں عوام کے لیے کچھ نہیں ہے بجٹ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیوں میں کمی لانے کا کوئی نظام نہیں دیا گیا، گاڑیاں سستی کردینے سے عام آدمی کو کیا ملے گا جس مزدور کی دہاڑی تین سو روپے ہے اور اس کے لیے اس بجٹ میں مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں ہے اس بجٹ میں مراعات یافتہ طبقے کو ایک بار پھر نواز دیا گیا ہے اور اور بیس ہزار کم از کم تنخواہ مقرر کرکے کوئی احسان نہیں کیا گیا

انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں آٹا،چینی، دالوں کے ریٹ کنٹرول کرنے کا کوئی نظام حکومت کے پاس نہیں ہے انہوں نے کہا کہ حکومت نے خود تسلیم کیا ہے کہ مہنگائی اکیس فی صد ہے مگر اس شرح سے بجٹ میں کچھ نہیں دیا گیا اس بجٹ میں پانچ گھرانے کا ایک خاندان کیسے مطمئن ہوگا یہ بات وزیر اعظم ہمیں بتادیں ریاست مدینہ میں تو حکمران اور مزدور کی تنخواہ برابر تھی مگر یہ کسی حکومت ہے جو نام تو لیتی ہے کہ ریاست مدینہ قائم کرے گی مگر عمل کی دنیا میں ناکام ہے انہوں نے کہا کہ مزدور کو فاقہ کشی سے بچانے کے لیے حکومت سنجیدگی کے ساتھ سوچے اور مزدوروں کو روزگا ر بھی دے اور زندگی گزارنے کاحق بھی اپنے عمل کے ساتھ تسلیم کرے بجٹ میں مراعات یافتہ طبقے کے لیے ہر سہولت ہے اور غریب کے لیے صرف امکانات ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔