اسلام آباد (سب نیوز)صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ شرح سود 11.5فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کاروباری برادری کی توقعات کے برعکس ہے،بلند شرح سود سے صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، معاشی نمو، برآمدات اور صنعت کے فروغ کے لیے کاروبار دوست مالیاتی پالیسیاں اپنائی جائیں ۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شرح سود 11.5فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کاروباری برادری کی توقعات کے برعکس ہے، معاشی اشاریوں میں بہتری کے باوجود شرح سود میں کمی نہ کرنا صنعت اور تجارت کیلئے تشویشناک ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ بلند شرح سود سے صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے،کاروباری لاگت میں کمی اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کیلئے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانا ناگزیر ہے،سستی فنانسنگ کے بغیر صنعتی توسیع، نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ممکن نہیں، اسٹیٹ بینک آئندہ مانیٹری پالیسی میں معاشی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود میں نمایاں کمی کرے۔
عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ شرح سود میں کمی سے کاروباری سرگرمیوں میں تیزی، پیداواری لاگت میں کمی اور اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا، معاشی نمو، برآمدات اور صنعت کے فروغ کے لیے کاروبار دوست مالیاتی پالیسیاں اپنائی جائیں۔
