ہومکالم وبلاگزفلسطین ''مسجد اقصیٰ ''میں اسرائیل کی بے حرمتی کے الائو سے عالم عرب کو جہاد کی پکار''فلسطین جل رہا ہے ،مسلمان محو خواب ہے''

فلسطین ”مسجد اقصیٰ ”میں اسرائیل کی بے حرمتی کے الائو سے عالم عرب کو جہاد کی پکار”فلسطین جل رہا ہے ،مسلمان محو خواب ہے”

تحریر:ڈاکٹر ایم کے ریحان


فلسطین اورمسجد اقصیٰ جلنے سے مرادپوری مسلم اُمہ اور عالم عرب جلنا ہے۔ فلسطین ”مسجد اقصیٰ ”میں اسرائیلیوں کی بے حرمتی کے الائو سے عالم عرب کو جہاد کی پکارآ رہی ہے ۔ غا لباًمسلمانوں کی غیرت اب شاید امام مہدی اور حضرت عیسیٰ ابن مریم کے آنے پر ہی جاگے گی۔ عام کلمہ گو تو دین محمدیہۖ کے حرمت کیلئے سر بکفن ہے ۔مگر عالم عرب اور دیگر مسلمان ممالک کے عیاش حکمران اور موت سے خوف زدہ یہ کٹھ پتلیاں اُن کو سلا دیتی ہیں ۔ فلسطینی بہادر مائوں کے بیٹے جو نماز عشق بندوقوں اور توپوں کی گھن گرج میں ادا کر کے تاریخ رقم کر دی ۔ سلام ہو فلسطین کی بہادر مائوں کے تم نے 25 رمضان المبارک کے دن سے شروع ہونے والے بد بخت اور روئے زمین پر بد ترین انسانی مخلوق یہود کی مسلح افواج کا پتھروں سے مقابلہ کیا ۔ فلسطینی مرد مجاہدپوری اُمت مسلمہ کو مدد کے لیے چیخ چیخ کر پکار رہے ہیں۔ کہ اے پوری دُنیا کے مسلمانوں ہم بھی تمہارے کلمہ گو بھائی ہیں۔ آئو اپنی مائوں ،بہنوں ، بیٹوں اور بچوں کی مدد کے لیے آگے بڑھو۔ ہم فلسطینی مسلمان تن تنہاء اسرائیل کی بر بریت ،جار جیت اور اخلاقی اقدار کے بے حرمتی کو روکا ہوا ہے۔ حماس کے مجاہدین عام اسلحہ سے یہودیوں کے ساتھ جہاد میں مصروف عمل ہیں۔جبکہ فلسطین میں نہتے مسلمان یہودی فوجیوں کے سامنے سیہ پلائی دیوار بن گئے ہیں۔ کاش عرب حکمرانوں میں سے کوئی تو خواب غفلت سے جاگتا۔امریکی ایما ء پربد معاش اسرائیل کو تسلیم کرنے والے عرب ممالک تم روز قیامت اللہ اور اُس کے پاک رسول ۖ کا کیسے سامنا کروگے ؟بلکہ مسلمہ اُمہ کے سود گرواں تمہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے اور اپنے پیارے رسول ۖ کے سامنے ہی نہیں آنے دے گا۔ تم غدار اُمت مسلمہ ہو اور غداروں کی سزا ماسوائے دوزخ کی آگ کے اور کچھ نہیں ہو سکتی۔ تم نے قبلہ اول مسجد اقصیٰ کو آگ لگا نے والوں اور سب سے بڑھ کر مسلمانوں کا قتل عام کرنیو الے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے۔ تم صرف عربوں کے نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کے غدار ہو تم نے موت سے بچنے اور اپنی حکمرانی کے بچائوکے لیے امریکہ کی تابع داری اورغلامی کا دم بھرتے ہو۔کیا آج تمہیں اسرائیلی دہشت گرد ریاست کا ظلم و جبروت نظر نہیں آرہا۔ اور ایک بار پھر موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کے زمانہ کے غدار ابو دائود کی یاد تازہ مت کرو ۔ بلکہ اپنی مذہبی،اخلاقی ذمہ داریوں کو پور کرنے کیلئے میدان عمل میں آئو۔
٭اس وقت اقوام متحدہ کے 58 مسلم ممالک ا رکن ہیں جو متحد ہو کر اقوام متحدہ میںمسلم برادری پرمظالم کے خلاف تمام غیر مذہب قیادتوں سے موثر عملی کردار کے متقاضی ہو سکتے ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ مسلم دُنیا کے حکمرانوں کی کوئی مشترکہ ٹھوس پالیسی اور عملی اقدام واضع نہ ہونے بنا پر اپنی کوئی بات منوانے کے قابل نہیں۔اگر مسلم ممالک کی قیادتیںمشرکہ حکمت عملی سے اپناہیں تو اسرائیلی کارروائیوں کیخلاف ہر عالمی اور علاقائی فورم کو جھنجوڑ کر رکھ دیں۔ جبکہ عملی طور پر وہ خود بھی مسلم نیٹو فورسز کے ذریعے اسرائیل کی جانب پیش رفت اور پیش قدمی کرکے محض دس لاکھ نفوس پر مشتمل اس قوم کا انجرپنجر ہلا دیں۔ مگرافسوس کہ مسلم دُنیا کی قیادتوں نے ایسی مصلحتوں کی خاطرخاموشی اور ہٹ دھرمی کا لبادے اوڑھ رکھا ہے۔ اسلام کی نشاة ثانیہ کا احیاء تو بہت دُور کی بات ہے۔اسرائیلی فوج کے مسلمانوں قبلہ اوّل پر شرمناک اور وحشانہ حملے سے اٹھائی جانیوالی ہزیمت کا احساس بھی ان کیلئے خجالت کے پسینوں کا باعث نہیں بن پایا۔ اس مسلم اُمہ کی شرمناک حرکت سے اسرائیل فوج کے حوصلے مزید بلند ہو رہے ہیں۔ کیا ایسی بے حسی کی فضا میں مسلم اُمہ باہمی اتحاد و یگانگت سے اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کر پائیں گے؟یامسلم اُمہ کیخلاف ہنود و یہود و نصاریٰ کا باہمی گٹھ جوڑ کو ریزہ ریزہ کرنے کیلئے کوئی عملی اقدام اٹھانے کیلئے اپنا قائد چن پائیں گے؟ اگر ہمارے حکمرانوں نے صرف میڈیاپر دھواں دھار لفظی بیان بازی کو اپنا معمع نظر رکھا تو ہماری روایتی بے حسی ہمارا ستیا ناس کردے گی۔اِس بارودی اور جارحیت زدہ لائو اور فضا میں الحادی قوتیں اپنے اتحاد اور اسلحہ بارود کے زور پر مسلم اُمہ چڑھنے اور ختم کرنے کا اس نادر موقع کبھی ضائع نہیں کریگے۔ نہیں ملے گا۔ بے شک الحادی قوتوں کا ایجنڈا ہم سے اتحاد امت کا متقاضی ہے اور یہی مسلم قیادتوں کی اصل آزمائش ہے۔ کا ش آج مسلمانوں میں حضرت نور الدین زنگی اور اُس کا کرد سپہ سالار حضرت صلاح الدین ایوبی اور سلطان ٹیپوجیسے ہوتے کہ جن کے نام لے کر عیسائی اور یہودی مائیں اپنے بچوں کو ڈرایا کرتی تھیں۔مگر آج نہتے فلسطینی اسرائیلی بربریت پر نظریں آسمان کی طرف اٹھائے، ابابیلوں کی صورت میں کسی غیبی مدد کے منتظر ہیں ۔ مگرعالم اسلام کی یہ بے حسی اُمہ کی اجتماعی غیرت وحمیت اور وقار کے منافی روش ہے ۔ اس کمزور ردعمل کا عالمی غنڈہ اسرائیل کیا اثر قبول کریگا؟ اور عالم اسلام باہمی مسائل وتنازعات میں الجھا غیرمسلم ممالک سے دفاعی اور تجارتی معاہدوں کی اخلاقی پاس داری میں مصروف ہے۔اس سے بڑھ کر بے حمیتی اور کم ظرفی کیا ہو سکتی ہے کہ ایک طرف تو ملت اسلامیہ اسرائیل کو غاصب ریاست قرار دیتی ہے، دوسری طرف اسرائیل سے تجارتی معاہدوں کی صورت میں اس ناجائز ریاست کی معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں۔عرب ریاستیںقومیت کے جذبہ سے مغلوب ہو کر اسرائیل سے دوستی کی پینگیں بڑھانا اور تجارتی معاہدوں سے اپنی دینی شناخت اور وقار کو خاک میں ملا چکی ہیں۔ یہودیوں کی غاصب ریاست کوتسلیم کرنے اور اس سے تجارتی معاہدے کرنے والے حکمران یہ بھول چکے ہیں کہ وہ جن مقامات مقدسہ کی حرمت و فضیلت کے باعث فیوض و برکات اور احترام کی دولت سمیٹ رہے ہیں، یہ سب عظمت اسلام اور آقائے دو جہاںۖ کے مقدس قدموں کا صدقہ ہے۔عرب ریاستوں کی جانب سے اسلام کی روح کے منافی ہونیوالے فیصلوں کے باعث مشرق وسطیٰ میں صہیونی غلبہ روز افزوں ہے۔ ان حالات میں عالم اسلام کا عالمی برادری سے فلسطینی عوام کے تحفظ کیلئے کارروائی کا مطالبہ اسی صورت نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے ۔ جب اُمہ خود بھی عملاً موثر اقدامات اٹھانے پر کمربستہ نظر آتی ہو۔عالمی برادری سے محض کارروائی کا مطالبہ مظلوم فلسطینیوں کی اشک شوئی کے سوا کچھ نہیں۔یہ دیکھتے ہوئے کہ اسرائیل جارحانہ عزائم کی تکمیل کیلئے مسلسل ایسے اقدامات اٹھاتا چلا آ رہا ہے، جو عالمی امن کیلئے خطرہ ہیں، مسلم حکمرانوں کا متحد نہ ہونا ،صہیونی لابی کو مشرق وسطیٰ میں مزید کھُل کھیلنے کے مواقع فراہم کرنے کے مترادف ہے۔قبلہ اول کی حرمت پامال کرنے کے بعد غزہ میں اسرائیل نے جو قیامتِ صغریٰ برپا کی اس پر عالم اسلام کاکمزور رد عمل اسلامی بھائی چارہ کی روح کے سرا سر منافی ہے۔
آج اسرائیلی بربریت سے فلسطین میں آگ کے شعلے آسمانوں کو چھو رہے ہیں۔ مسجد اقصیٰ قبلہ اوّل کی جگہ پر یہودی ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کی غیرت کا امتحان لے رہے ہیں ۔ بلکہ سابق وزیر اعظم اسرائیل خاتون نے گذشتہ رو ز پورے عالم اسلام کے عیا ش اور خواب خرگوش سے بیدار نہ ہونے والوں مسلمان حکمرانوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم نے مسجد اقصیٰ پر حملہ کیا تو میں ساری رات اِسی خوف کی وجہ سے سو نہ سکی ۔کہ شاید صبح عرب ممالک اسرائیل کو گھیر ے میں لے کر تباہ نہ کردیں۔ لیکن صبح عرب ملک کا کتا بھی اسرائیل کی سرحد پر حملہ کرنے نہ آیا تھا۔ تو اُسی دن اسرائیل نے مصمم ارادہ کر لیا۔ کہ اب عرب حکمرانوں میں کوئی صلاح الدین ایوبی، موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد اور سلطان ٹیپو
جیسا جرنیل نڈراوربیباک پیدا نہیں ہو سکتے۔ اور اُنکی غیر ت بھی محو خواب سے بیدار نہیں ہو سکتی۔ اہل عرب کی دم توڑتی روایات کے پیش نظر اسرائیلی حکمرانوں نے فیصلہ کیا کہ اسرائیلی سیکورٹی فورسز اپنی من مرضی سے اہل فلسطین کے بوڑھوں،بچوں سب کو کو بھیڑ بکریوں کی طرح پکڑ کر خو ن میں لت پٹ کرتے رہیں۔ اور قبلہ اوّل مسجد اقصیٰ کو آگ لگاتے رہیںاور اب شاید یہودیوں کی تاریخ میں وہ وقت آپہنچا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ بیت المقدس میں اپنی دیوار گریہ کے ساتھ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی ۔فلسطین میںفضائی حملوں سے تباہی مچانے کے بعد غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوجوں کا اجتماح اس بات کا غماز ہے کہ اسرائیل زمینی جنگ سے نہتے فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا تہیہ کر چکا ہے۔دن دبدن بڑھتی حالات کشیدگی بتا رہی ہے کہ حماس یا فلسطین اس سے زیادہ مزاحمت کی سکت نہیں رکھتے ۔ غزہ میں اسرائیل کی بمباری اور بربریت کی انتہا، اُمہ کے منہ پر طمانچہ کے مترادف ہے۔مسلمانوں کے گردگھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں قرب قیامت کی جو نشانیاں جناب رسالت مآب ۖ نے بیان فرمائی تھیں وہ اب سامنے آرہی ہیں عربوں کے زوال کا ذکر بھی رفتہ رفتہ سامنے آرہا ہے ،نیز حضور اقدس ۖ نے فرمایا تھا کہ میری اُمت پر ایک مرتبہ عالم کفر ٹوٹ پڑے گا اور ہر طرف سے اِن کو گھیر لے گا تو صحابہ کرام نے پوچھا کہ اے اللہ کے پاک رسول ۖ کیا ہم اَس وقت تعداد میں کم یا پھر کمزور ہونگے تو آپ ۖ نے فرمایا کہ تم اُس وقت تعداد میں بہت زیادہ ہونگے لیکن موت کے خوف کی وجہ سے بزدل بن جائیں گے۔ اللہ کے پاک رسول ۖ کا فرمان مبارک آج پوری دنیا کے مسلمانوں کی بے بسی اور کم ہمتی روز روشن کی طرح عیاں ہو رہی ہے ۔کہ ہم اور ہمارے بزدل حکمران موت کے خوف کی وجہ سے جہاد سے کنارا کش ہو چکے ہیں اور اب یہی وقت قریب آرہا ہے۔انشاللہ ! امام مہدی کا اچانک بیت اللہ شریف میں ظہور ہو جائے اور ایک بار پھر سے عالم اسلام کا بول بالا ہو جائے۔قرآن واحادیث کی تعلیمات کیمطابق ملت اسلامیہ جسم واحدہ ہے۔مگر مسئلہ فلسطین ایسے دیرینہ تنازعات مسلمہ بین الااقوامی انسانی حقوق کی روشنی میں حل نہ ہونا ہمارے ایمان پر سوالیہ نشان ہے ؟
حالات کے تناظر میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا فلسطینی ہم منصب سے فون پر اظہار یکجہتی اور ہر ممکن مدد کا یقین دہانی اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے اصولی موقف کا اعادہ کرنا نہایت خوش آئند توکہا جا سکتا ہے۔ مگریہ لفظی ڈہلاک اسرائیلی بربریت اور فلسطین پر قیامت صغرا پربا کرنے کا ہر گز منہ توڑ جواب نہیں۔میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی درخواست پر او آئی سی کا اجلاس بلایا جانا اور عرب ریاستوں کا اسرائیلی بربریت پر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اسی صورت موثر اوور دیر پاثابت ہو سکتا ہے جب جارح اسرائیل کے نہتے فلستینوں کے رنگے خون آلودہاتھوں کو طاقت سے نہ روکا جائے۔ مگرایسا مدبرانہ اور دلیرانہ فیصلہ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔کیونکہ مسلم اُمہ کا ہر حکمران یہودیوں کا کاسہ لیس بنا ہوا ہے۔ گمبھیرحالات کا تقاضا ہے کہ جو عرب ریاستیں کسی مفاہمت یا مفاد کے تحت اسرائیل کو تسلیم کر چکی ہیں۔اَب وہ اپنے غیر منصفانہ فیصلے پر نظر ثانی کریںاور اسرائیل کے ظلم و تشدد کے خلاف آہنی دیوار بن جائیں۔کیونکہ اَب اُنکی غیرت کا امتحان قریب آچکا ہے۔اب بھی روایتی خوف سے باہر نہ نکلے اس خوانخوار بھیڑئیے کے پنجے اُنکی گردن تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔