وزیر اشفاق
آجکل کنٹریکٹ و کنٹجینٹ ملازمین کی مستقلی ایکٹ کو لیکر ایک طرف احتجاجی دھرنے ہو رہے ہیں تو دوسری جانب بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے نتیجے میں نوجوان ڈِپریشن کا شِکار ہو رہے ہیں اور روزگار کے مواقع نا ملنے کی وجہ سے وہ کنٹریکٹ و کنٹیجنٹ مستقلی کے خلاف صف آرا دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ دراصل لڑاو اور حکمرانی کرو والا فارمولا دکھائی دے رہا ہے تا کہ نئے روزگار تخلیق کرنے کے صلاحیت سے عاری حکومت راہ فرار حاصل کرے۔۔اس وقت نوجوان طبقہ دو راہے پر کھڑا ہے اور حالات کی ستم ظریفی کے ہاتھوں مجبور ہو کر شدید نفسا نفسی کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔ یہ قلت کی نفسیات ہے جو کہ ایک فطری عمل ہے۔ بے روزگار نوجوان طبقہ کنفیوژن کا شکار ہے، اس کی کوشش ہے کہ پہلے اس کو روزگار ملے ۔۔ ایسے میں درست نظریات رکھنے والے ساتھیوں کا مطالبہ کسی کو بے روزگار کرنا ہر گز نہیں ھو سکتا اور نا ہی روزگار کے نام پر محنت کشوں کو الجھا کر آپس میں لڑانا۔۔کنٹریکٹ اور کنٹجینٹ کے قوانین موجود ہیں اگر کوئی ملازم اقربا پروری اور سفارش کی بنیاد پر بھرتی ہوا ہے یا جعلی تعلیمی اسناد رکھتے ہیں یا پھر جو کنٹریکٹ اور کنٹیجنٹ قوانین کو پامال کر کے آئے ہیں وہ بائی ڈیفالٹ ریگولر نہیں ھو سکتے اس پر اتنی بحث کیوں ہو رہی ہے؟؟ اسی دوران پبلک سروس کمیشن کے زریعے بھرتیوں کا راگ بھی الاپا جا رہا ہے حلانکہ اس کے لئے حکمت عملی دہائیوں پہلے شروع ہو جانی چاہئے تھی کیونکہ یہ ایک نفسیات کو شل کر دینے والا عمل ہے۔۔ سب سے پہلے تو ایف پی ایس سی کی سیٹوں کو تب مشتہر کیا جاتا ہے جب جی بی کی بیوروکریسی آٹے میں نمک برابر سیٹیں تخلیق کر کے وفاق بھجواتی ہے۔ پھر اس کے بعد دو تین سال لگ جاتے ہیں ٹیسٹ اور انٹرویو کے نام پر امیدواروں کو خوار کروانے میں۔ چونکہ میں خود اس عمل سے گزر چکا ہوں اور 2013 میں ایف پی ایس سی پاس کر کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں لگا ہوں لیکن جس تجربے اور پروسس سے گزرا ہوں اس کے بعد یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ سب مستقل روزگار دینے کے نام پر تعلیم یافتہ طبقے کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے والا کام ہے ۔کیونکہ ہر شعبے میں جتنے افراد کو بھرتی ہونا چاہئیے اتنی سیٹیں ایف پی ایس سی مشتہر نہیں کر پاتا۔ مثلا اس وقت گلگت بلتستان میں آبادی کے تناسب سے کم از کم 1500 ڈاکٹروں کو بھرتی کرنا چاہئیے لیکن ایف پی ایس سی کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں گزشتہ دس سالوں میں زیادہ سے زیادہ بمشکل ڈیڑھ سو ڈاکٹروں کی بھرتیاں عمل میں لائی جا سکی ہیں۔ایسے میں ایف پی ایس سی کا ادارہ کیسے اتنا قابل بھروسہ ہوا کہ اس کو بنیاد بنا کر کسی کو نوکری کے لئے نا اھل قرار دیا جائے؟؟ دراصل یہ لوگ روزگار دینے کے اھل نہیں ہیں اس لئے ہر سال گنتی برابر سیٹیں ایف پی ایس سی بھجوا دیتے ہیں اور بہت سارے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بے روزگار کرنے کا جواز تراشتے ہیں۔۔پھر آتے ہیں گلگت بلتستان جیسے پسماندہ علاقے کی طرف جہاں کا حکمران طبقہ وفاق کے ہاتھوں اسقدر بے بس و لاچار ہے کہ نئے ادارے تخلیق کرنے کی صلاحیت سے قاصر ہے اور نا یہاں کوئی پبلک سروس کمیشن یا دیگر ریکروٹمنٹ اداروں کا وجود ہے، لہازا ایسے میں کنٹریکٹ اور کنٹیجنٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کے علاوہ مستقل روزگار کا کوئی اور فعال طریقہ کار موجود نہیں ہے۔تمام نوجوانوں بلخصوص گریجویٹس الائنس اور کنٹریکٹ و کنٹیجنٹ ملازمین کا مشترکہ مطالبہ یہی ہونا چاہئیے کہ حکومت نئے ادارے تخلیق کرے جس سے خود بخود ہزاروں سیٹیں تخلیق ہونگی اور نوجوانوں کو با عزت روزگار ملے گا۔۔ ورنہ موجودہ نظام جس میں کھپت کی مزید صلاحیت ختم ہو چکی ہے اس کے اندر رہتے ہوئے” ایک انار سو بیمار ” کی مثل آپس میں بے روزگار افراد گتھم گتھا ہوتے رہیں گے۔۔
