ہومبریکنگ نیوزسی ڈی اے کا بحریہ انکلیو کے خلاف بڑا ایکشن، مارکیٹنگ اور سائٹ دفاتر سیل کرنے کا حکم

سی ڈی اے کا بحریہ انکلیو کے خلاف بڑا ایکشن، مارکیٹنگ اور سائٹ دفاتر سیل کرنے کا حکم

اسلام آباد: (سب نیوز) کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے بحریہ انکلیو ہاؤسنگ اسکیم، زون فور اسلام آباد میں مبینہ غیر منظور شدہ توسیع، منظور شدہ لے آؤٹ پلان کی خلاف ورزیوں اور دیگر بے ضابطگیوں کے معاملے پر کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف ریجنل پلاننگ کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق بحریہ انکلیو ون کا لے آؤٹ پلان 12 ہزار 543 کنال رقبے پر منظور کیا گیا تھا جبکہ بعد ازاں اسکیم کا رقبہ 18 ہزار کنال سے تجاوز کر گیا۔
سی ڈی اے کے مطابق غیر منظور شدہ اراضی پر ترقیاتی کام، پلاٹس کی خرید و فروخت اور عمارتوں کی تعمیر کی گئی۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو متعدد بار غیر منظور شدہ اراضی پر ترقیاتی کام روکنے اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلان جمع کرانے کی ہدایت کی گئی، تاہم سی ڈی اے کے مطابق ہدایات پر عملدرآمد کے بجائے ترقیاتی کام اور تعمیرات جاری رہیں۔
سی ڈی اے نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ اسکیم کی مقررہ تکمیل کی مدت بھی پوری ہو چکی ہے، تاہم ترقیاتی کام مکمل کرنے اور کمپلیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے حوالے سے مطلوبہ کارروائی نہیں کی گئی۔

مراسلے میں منظور شدہ لے آؤٹ پلان کی خلاف ورزی اور پارک کے لیے مختص جگہ کو مبینہ طور پر کمرشل استعمال میں تبدیل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

سی ڈی اے کے مطابق بحریہ انکلیو کی جانب سے اتھارٹی کی اراضی پر بھی مبینہ تجاوزات کی گئی ہیں، جبکہ سی ڈی اے کی زمین پر تعمیرات اور اولڈ کُری روڈ سے اسکیم تک رسائی کے لیے مبینہ طور پر غیر قانونی سڑک کی تعمیر کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔
مراسلے میں مزید کہا گیا کہ ریکارڈ میں بحریہ انکلیو کے دو مختلف لے آؤٹ پلان موجود ہیں، جن میں پارکس، کھیل کے میدانوں اور گرین ایریاز کے رقبے کے حوالے سے بھی 200 کنال سے زائد کا فرق پایا گیا ہے۔سی ڈی اے نے بحریہ ٹاؤن کو تمام شرائط و ضوابط پر عملدرآمد، واجبات، جرمانے اور فیس جمع کرانے، سی ڈی اے کی اراضی پر تعمیر شدہ غیر قانونی عمارتیں اور رسائی سڑک ختم کرنے، جبکہ غیر منظور شدہ اراضی اور اسکیم کی توسیع سے متعلق لے آؤٹ پلان، این او سی اور عمارتوں کے نقشوں کی منظوری حاصل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
مراسلے کے مطابق 9 ستمبر 2026 کو حتمی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا جس کا جواب بحریہ ٹاؤن نے 15 ستمبر کو جمع کرایا، تاہم سی ڈی اے نے جواب کو حقائق اور منطقی بنیادوں پر قابلِ اعتماد قرار نہیں دیا۔سی ڈی اے نے متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت بحریہ انکلیو، زون فور اسلام آباد میں نیو بحریہ ہیڈ آفس، بزنس ڈسٹرکٹ کے مارکیٹنگ اور سائٹ آفسز کو سیل کرنے کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف انفورسمنٹ کو کارروائی کی ہدایت کردی ہے۔مراسلے میں متعلقہ حکام کو غیر قانونی تعمیرات اور ڈھانچوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی، جبکہ آئیسکو اور سوئی ناردرن گیس کو منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور منظور شدہ بلڈنگ پلان کے مطابق ہی سروس کنکشن فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔