امریکی کوسٹ گارڈ نے بحرِ اوقیانوس کی گہرائیوں میں تاریخی بحری جہاز ٹائٹینک کے ملبے تک تفریحی سفر پر جانے والی لاپتہ آبدوز ٹائٹن میں سوار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
اس تفریحی سفر کا انتظام کرنے والی اوشیئن گیٹ کمپنی، جس کے بانی بھی ٹائٹن آبدوز میں سوار تھے، نے گذشتہ رات ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمارا ماننا ہے کہ ہمارے سی ای او سٹاکٹن رش، شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد، ہمیش ہارڈنگ اور پال ہینری، کھو چکے ہیں۔‘
ٹائٹن حادثے میں شہزادہ داؤد اور سلیمان داؤد کی وفات کے بعد داؤد فیملی نے اعلامیہ جاری کردیا۔
داؤد فیملی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہمارے پیارے بچے اوشن گیٹ کی ٹائٹن آبدوز پر موجود تھے جو زیرِ سمندر غرق ہوئی۔
داؤد فیملی کا کہنا ہے کہ وفات پانے والوں اور ہمارے خاندان کو اس مشکل موقع پر اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں، ہم نیک تمنائیں رکھنے والوں کے شکر گزار ہیں جو اس مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے۔
اعلامیے میں دیگر مسافروں کے خاندانوں سے اظہارِ افسوس اور ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والوں کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ٹائٹینک کے ملبے تک تفریحی سفر پر لے جانے والی آبدوز اتوار سے لاپتہ تھی جس کے بعد اس کی تلاش کا آغاز کر دیا گیا تھا۔
تلاش کے کام میں دو ڈرون سمندر کی تہہ تک پہنچے جبکہ برطانوی شاہی فوج کا ایک طیارہ بھی اس مقام پر آپریشن میں شامل ہوا۔ تلاش میں رائل کینیڈین ایئر فورس کے طیارے، بحری جہاز اور ریموٹلی آپریٹڈ وہیکلز (آر او ویز) نے بھی حصہ لیا۔
امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق ریموٹلی آپریٹڈ وہیکلز (آر او ویز) سمندر کی تہہ میں ہی موجود رہیں گے اور مزید معلومات اکھٹا کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس دوران امریکی کوسٹ گارڈ نے کہا تھا کہ آبدوز کی تلاش میں شامل ریسکیو ٹیموں کو آوازیں سنائی دیں جس کے بعد سرچ آپریشن کا دائرہ وسیع کر دیا گیا۔
لیکن کیپٹن جیمی فریڈرک نے بدھ کو کہا تھا کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ آوازیں کس چیز کی ہیں۔
ماہرین کے مطابق زیر سمندر جس جگہ ٹائٹن آبدوز گئی، وہاں کا ماحول اور حالات زمین کی بیرونی خلا جیسے سخت اور مشکل ہیں۔
کیونکہ ٹائٹینک کا ملبہ سمندر کے جس حصے میں موجود ہے اسے ’مڈنائٹ زون‘ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ درجہ حرارت منجمد کر دینے والا اور وہاں گھپ اندھیرا ہوتا ہے۔
کیپٹن جیمی فریڈرک نے یہ بھی کہا ہے کہ ’شاید ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو ڈھونڈنا ممکن نہ ہو سکے کیونکہ اس مقام پر سمندری ماحول انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔‘
