کوئٹہ (نیوزڈیسک)وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان میں تلور آئبیکس اور دیگر نایاب پرندوں اور جانوروں کے شکار پر پابندی عائد کر دی ہے۔
وزیراعلیٰ کے اعلان کے مطابق کسی بھی ملکی اور غیر ملکی شخص کو بلوچستان میں تلور سمیت دیگر پرندوں کا شکار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
وزیراعلیٰ کے مطابق ’یو این چارٹر اور بلوچستان وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔‘ انھوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے افسران و اہلکاران کو جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق جس علاقے میں پرندوں اور جانوروں کے شکار کی اطلاع ملی اس ضلع کے ڈی سی اور متعلقہ عملہ کے خلاف کاروائی ہوگی۔
بلوچستان حکومت نے پرندوں کے شکار کے علاقوں کی تمام الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے آئین میں متعارف کی جانے والی 18 ویں ترمیم کے تحت علاقوں کی الاٹمنٹ اور منسوخی صوبائی حکومت کا اختیا ر ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اپنے اس حق اور اختیار کا بھرپور دفاع کریں گے۔‘ ان کے مطابق حکومت کو اپنے اس اختیار کے استعمال کا آئینی و قانونی تحفظ حاصل ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق صوبائی حکومت کے فیصلے کو کسی قانونی فورم پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے یہ واضح کیا ہے کہ صوبے میں ٹرافی ہنٹنگ پر بھی پابند عائد رہے گی۔
ان کے مطابق معصوم پرندوں اور جانوروں کی جان کی قیمت پر پیسوں اور تعلقات قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر کسی کو حکومت کے فیصلے پر ابہام ہے تو وہ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات سے رابطہ کرے۔
وزیراعلی بلوچستان نے صوبے کے عوام سے بھی درخواست کی ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنی زمہ داری ادا کریں۔ انھوں نے کہا کہ کاروبار کی غرض سے نایاب پرندے پکڑنے اور انھیں دکانوں اور گھروں میں رکھنے والوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ’بلوچستان کو جنگلی حیات کے لئےمحفوظ خطہ بنائیں گے۔‘
بلوچستان میں نایاب پرندوں اور جانوروں کے شکار پر پابندی عائد
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
