اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع کوہاٹ کے دورہ کے دوران پولیس لائنز دھماکے کے شہدا کے اہلخانہ سے ملاقات کی۔اموقع پر پولیس، سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ، ریسکیو 1122، ڈاکٹرز، ضلعی انتظامیہ اور کوہاٹ کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز دہشت گردوں کے خلاف تقریبا 20 گھنٹے جاری رہنے والے آپریشن کے دوران جس بہادری اور دلیری کا مظاہرہ کیا گیا وہ قابل تحسین ہے۔
وزیراعلی نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہونے والے پولیس جوانوں اور شہریوں نے قوم اور ملک کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اللہ تعالی شہداکے درجات بلند فرمائے، ان کے اہلخانہ کو صبر جمیل عطا کرے اور تمام زخمیوں کو جلد صحتیابی نصیب فرمائے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا 2004 سے مسلسل دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور اس دوران صوبے کے 80 ہزار قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ طویل قربانیوں کے بعد صوبے میں امن قائم ہوا تھا اور عمران خان کے دور حکومت میں خیبرپختونخوا نے امن دیکھا۔
وزیراعلی نے کہا کہ اس دور میں پاکستان کی خارجہ پالیسی عوام اور ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر بنائی گئی۔ افغانستان میں ایسی حکومت کے باوجود جس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں تھے، عمران خان نے اسٹیٹس مین کا کردار ادا کیا، افغانستان کو پاکستان مدعو کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی۔
انہوں نے کہا کہ آج صورتحال اس کے برعکس ہے۔ جس حکومت کے آنے پر ہم نے جشن منایا اور جس کے ساتھ چائے کے پیالے پیے، آج اسی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں، بارڈر بند ہے، تجارت متاثر ہے، قبائلی اضلاع میں معاشی سرگرمیاں محدود ہو چکی ہیں اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
