کوئٹہ:رکن بلوچستان اسمبلی اور سینئر سیاستدان سردار یار محمد رند کا کہنا ہے کہ نو مئی پاکستان کی تاریخ کا بڑا مشکل دن تھا سرکاری ہوں یا دفاعی تنصیبات انکو نقصان پہنچانے کی مذمت کرتا ہوں ، پی ٹی آئی کے خاموش ممبر ہیں۔کوئٹہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سردار یار محمد رند نے کہا کہ ہم نے کبھی جمہوریت کا ساتھ نہیں چھوڑا نومئی کا واقعہ منظم سازش کا حصہ ہے ، سیاسی آدمی ہوں تشدد کی مذمت کرتا ہوں ، سردار یار محمد رند نے کہا کہ عمران خان نے مجھے محکمہ توانائی کے لئے معاون خصوصی بنایا تھا، مجھے صرف امن وامان کے حوالے سے ایک اجلاس میں بلایا گیا دفتر بھی نہیں تھا ،میں نے عمران خان استعفی دیا،عمران خان ڈائریکٹ اسپیکر بلوچستان اسمبلی کو خط لکھا کہ مجھے پارلیمانی لیڈر کے عہدے سے ہٹایا جائے ، ہم پی ٹی آئی کے خاموش ممبر ہیں،لیکشن آنے والے مستقبل کے حوالے سے رفقا کے ساتھ مشاورت کریں گے۔
انہوں نے مسلم لیگ ن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، انکے وزرا کے رویوں میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی، وفاقی وزیر خزانہ اور منصوبہ بندی تو بلوچستان کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو تو وقت ہی نہیں دیتے ۔پی ٹی آئی کے ناراض رہنما نے کہا کہ گزشتہ سال انکے بیٹے کے قافلے پر حملہ ہوا لیکن ملزمان نشاندہی کے باوجود اب تک گرفتار نہیں کئے جا سکے ، صوبائی حکومت ملزمان کی پشت پناہی کر رہی ہے ، بلوچستان میں اپوزیشن نام کی کوئی چیز نہیں پہلے جام کمال پر الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ غیر منتخب افراد کے ذریعے فنڈز خرچ کرتے ہیں اب بھی میرے مخالفین کو ایسے نوازا جا رہا ہے ، گزشتہ سال کے بجٹ میں انہیں ایک ارب 86 کروڑ روپے کی اسکیمیں دی گئیں جو مٹھڑی کی ایک یونین کونسل میں خرچ ہوئیں رواں سال کے بجٹ میں بھی انہیں نوازا جا رہا ہے ، حالیہ دنوں میں سیاسی مخالفین کو سات کروڑ پچھتر لاکھ روپے اسپیشل گرانٹ جاری کی گئی ہے۔
سردار یار محمد رند نے کہا کہ قدوس بزنجو اچھا انسان لیکن مجبور شخص ہے ،جوچیزیں ہو رہی ہیں وزیر اعلی قدوس بزنجو نہ چاہتے ہوئے بھی سب کچھ کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ آرمی چیف اس معاملے کو یکھیں اگر کوئی بڑا واقعہ ہوا تو اثرات دور تک جائیں گے ، بلوچستان جن حالات سے گزر رہا ہے ان کی تحقیقات ریٹائرڈ جرنیلں سے کروائی جائے،خود ساختہ مشروموں سے بلوچستان کے حالات نہیں بدلیں گے،الیکشن آ رہے ہیں ایسا نہ ہو کہ بلوچستان کی صورتحال سنگین نہ ہو جائے
